سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. باب : من بلغ علما
باب: علم دین کے مبلغ کے مناقب و فضائل۔
حدیث نمبر: 236
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْحَلَبِيُّ ، عَنْ مُعَانِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ بُخْتٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا، ثُمَّ بَلَّغَهَا عَنِّي، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ غَيْرِ فَقِيهٍ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے میری حدیث سنی، اور اسے محفوظ رکھا، پھر میری جانب سے اسے اوروں کو پہنچا دیا، اس لیے کہ بہت سے علم دین رکھنے والے فقیہ نہیں ہوتے ہیں، اور بہت سے علم دین رکھنے والے اپنے سے زیادہ فقیہ تک پہنچاتے ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 236]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نَضَّرَ اللّٰهُ امْرَأً» ”اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے جس نے میرا کلام سنا، اسے یاد رکھا، پھر میری طرف سے (روایت کرتے ہوئے) اسے (دوسروں تک) پہنچا دیا۔ بعض لوگوں کے پاس فقہ (اور علم) کی بات ہوتی ہے اور وہ خود فقیہ نہیں ہوتے۔ بعض لوگ فقہ کی بات اپنے سے زیادہ فقیہ آدمی تک پہنچا دیتے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 236]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1076، ومصباح الزجاجة: 91)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/427، 3/225، 4/80، 82، 5/183) (صحیح)» (اس کی سند میں محمد بن ابراہیم الدمشقی منکر الحدیث ہیں، لیکن اصل حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے، بلکہ متواتر ہے، ملاحظہ ہو: دراسة حديث: «نضر الله امرأ» للشيخ عبدالمحسن العباد)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
236
| نضر الله عبدا سمع مقالتي فوعاها ثم بلغها عني رب حامل فقه غير فقيه رب حامل فقه إلى من هو أفقه منه |
Sunan Ibn Majah Hadith 236 in Urdu
عبد الوهاب بن بخت المكي ← أنس بن مالك الأنصاري