🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب : كراهية الشهادة لمن لم يستشهد
باب: بغیر طلب کئے خود سے گواہی دینے کی کراہت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2363
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بنُ الْجَرَّاحِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالْجَابِيَةِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِينَا مِثْلَ مُقَامِي فِيكُمْ فَقَالَ:" احْفَظُونِي فِي أَصْحَابِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ حَتَّى يَشْهَدَ الرَّجُلُ وَمَا يُسْتَشْهَدُ وَيَحْلِفَ وَمَا يُسْتَحْلَفُ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مقام جابیہ میں خطبہ دیا، اس خطبہ میں انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بیچ کھڑے ہوئے جیسے میں تمہارے بیچ کھڑا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ کی شان کے سلسلے میں میرا خیال رکھو پھر ان لوگوں کی شان کے سلسلے میں جو ان کے بعد ہوں، پھر جو ان کے بعد ہوں، پھر جھوٹ عام ہو جائے گا یہاں تک کہ ایک شخص گواہی دے گا اور کوئی اس سے گواہی نہ چاہے گا، اور قسم کھائے گا اور کوئی اس سے قسم نہ چاہے گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2363]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مقامِ جابیہ میں ہم سے خطاب فرمایا، آپ نے اس میں فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان اسی طرح کھڑے ہوئے تھے جس طرح میں تمہارے درمیان کھڑا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ کے بارے میں میرا لحاظ رکھنا، پھر ان لوگوں کے بارے میں جو ان (صحابہ) سے متصل ہوں گے (یعنی تابعین)، پھر ان لوگوں کے بارے میں جو ان (تابعین) سے متصل ہوں گے (یعنی تبع تابعین)، اس کے بعد جھوٹ عام ہو جائے گا حتی کہ آدمی گواہی دے گا، حالانکہ اس سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی اور وہ قسم کھائے گا، حالانکہ اس سے قسم نہیں لی جائے گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2363]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10418، ومصباح الزجاجة: 828)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/26) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں عبد الملک بن عمیر مدلس ہیں، اور راویت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، الصحیحة: 431، 1116)
وضاحت: ۱؎: مقام جابیہ شام کی ایک بستی کا نام ہے۔ میرا خیال رکھو یعنی کم از کم میری رعایت کرتے ہوئے انہیں کوئی ایذا نہ پہنچاؤ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥جابر بن سمرة العامري، أبو خالد، أبو عبد الله
Newجابر بن سمرة العامري ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي
👤←👥عبد الملك بن عمير اللخمي، أبو عمرو، أبو عمر
Newعبد الملك بن عمير اللخمي ← جابر بن سمرة العامري
صدوق حسن الحديث
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← عبد الملك بن عمير اللخمي
ثقة
👤←👥عبد الله بن الجراح التميمي، أبو محمد
Newعبد الله بن الجراح التميمي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2363
احفظوني في أصحابي ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم يفشو الكذب حتى يشهد الرجل وما يستشهد ويحلف وما يستحلف
المعجم الصغير للطبراني
854
أكرموا أصحابي ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم يفشو الكذب حتى يشهد الرجل ولم يستشهد ويحلف ولم يستحلف فمن أراد بحبوحة الجنة فليلزم الجماعة فإن الشيطان مع الواحد وهو من الاثنين أبعد ألا لا يخلون رجل بامرأة فإن ثالثهما الشيطان
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2363 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2363
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
میرا خیال رکھنا اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھ سے تعلق کا لحاظ رکھتےہوئے ان سے محبت اوران کا احترام قائم رکھنا۔

(2)
تابعین اورتبع تابعین بھی قابل احترام ہیں لہٰذا ان سےمحبت اوران کا احترام ضروری ہے۔

(3)
صحابہ، تابعین اورتبع تابعین کےدورمیں خیر غالب اورشرمغلوب تھا۔
عام لوگوں میں اخلاق وکردار کی وہ خرابیاں نہیں تھیں جوبعد میں ظاہر ہوئیں۔
ان زمانوں میں جو فکری غلطیاں پیداہوئیں ان میں بھی وہ شدت نہیں تھی جو بعد کے لوگوں میں پیدا ہوگئی۔

(4)
گواہی طلب نہ کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ گواہ گواہی دینے کو تیارہوں گے لیکن وہ اخلاقی طور پرکمزور ہونے کی وجہ سے قابل اعتماد نہیں ہوں گے، اس لیے انہیں گواہ کے طور پر قبول اور پسند نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کی قسموں پر بھی اعتبار نہیں کیا جائے گا۔

(5)
مسلمان کو چاہیے کہ ایسے برے لوگوں میں شمار ہونےسے بچنے کی کوشش کرے جن کی پیش گوئی احادیث میں کی گئی ہے، اوراپنے کردار کوبہتر بنائے تاکہ اس کی گواہی اورقسم قابل اعتماد ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2363]

Sunan Ibn Majah Hadith 2363 in Urdu