🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب : الكفالة
باب: ضمانت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2405
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الزَّعِيمُ غَارِمٌ وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ".
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: (قرض کا) ضامن و کفیل (اس کی ادائیگی کا) ذمہ دار ہے، اور قرض کی ادائیگی انتہائی ضروری ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2405]
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ضمانت دینے والے پر تاوان ہو گا اور قرض ادا کیا جائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2405]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/البیوع 90 (3565)، سنن الترمذی/البیوع 39 (1265)، (تحفة الأشراف: 4884) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥صدي بن عجلان الباهلي، أبو أمامةصحابي
👤←👥شرحبيل بن مسلم الخولاني
Newشرحبيل بن مسلم الخولاني ← صدي بن عجلان الباهلي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن عياش العنسي، أبو عتبة
Newإسماعيل بن عياش العنسي ← شرحبيل بن مسلم الخولاني
صدوق في روايته عن أهل بلده وخلط في غيرهم
👤←👥الحسن بن عرفة العبدي، أبو علي
Newالحسن بن عرفة العبدي ← إسماعيل بن عياش العنسي
صدوق حسن الحديث
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← الحسن بن عرفة العبدي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2405
الزعيم غارم والدين مقضي
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2405 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2405
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اگرایک شخص دوسرے کی ضمانت دے کہ وہ یہ قرض ادا کر دے گا اوروه مطالبے پر یا مقررہ وقت پر ادا نہ کرے تو ضامن کو چاہیے کہ اپنے پاس سےقرض خواہ کو قرض ادا کر دے، بعد میں مقروض سے وصول کرلے۔

(2)
قرض ادا کرنا ہرحال میں ضروری ہے حتی کہ اگر مقروض فوت ہو جائے تو اس کے ترکے میں سےقرض ادا کیا جائے گا۔
اگر ترکے سےقرض ادا نہ ہو سکےتواس کےوارث ادا کریں گے۔

(3)
تاوان کا مطلب یہ ہے کہ اگرمقروض قرض نہ دے تو ضامن اپنے پاس سےرقم دے کریہ ذمے داری پوری کرے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2405]

Sunan Ibn Majah Hadith 2405 in Urdu