🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب : من ترك دينا أو ضياعا فعلى الله وعلى رسوله
باب: جو قرض یا بےسہارا اولاد چھوڑ جائے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے ذمے ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2416
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَعَلَيَّ وَإِلَيَّ وَأَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جو قرض یا بال بچے چھوڑ جائے تو اس کے قرض کی ادائیگی اور اس کے بال بچوں کا خرچ مجھ پر ہے، اور ان کا معاملہ میرے سپرد ہے، اور میں مومنوں کے زیادہ قریب ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2416]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الخراج 15 (2954)، (تحفة الأشراف: 2605)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/296، 371)، وھوطرف حدیث تقدم برقم: 45) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد الباقر، أبو جعفر
Newمحمد الباقر ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥جعفر الصادق، أبو عبد الله
Newجعفر الصادق ← محمد الباقر
صدوق فقيه إمام
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← جعفر الصادق
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2954
أنا أولى بالمؤمنين من أنفسهم من ترك مالا فلأهله
سنن أبي داود
2956
أنا أولى بكل مؤمن من نفسه فأيما رجل مات وترك دينا فإلي ومن ترك مالا فلورثته
سنن ابن ماجه
2416
من ترك مالا فلورثته ومن ترك دينا أو ضياعا فعلي وإلي وأنا أولى بالمؤمنين
سنن النسائى الصغرى
1964
أنا أولى بكل مؤمن من نفسه من ترك دينا فعلي ومن ترك مالا فلورثته
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2416 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2416
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1) (ضیاعاً)
سےمراد وہ افراد ہیں جنھیں اپنی ضروریات پوری کرنے کےلیے نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے مثلاً:
چھوٹے بچے، بوڑھے اورمعذور افراد جواپنی روزی کا بندوبست نہیں کرسکتے۔

(2)
اسلامی ریاست ایک فلاحی ریاست ہوتی ہے جس میں غریب اورنادار افراد کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔

(3)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا امت سے جو تعلق ہے وہ دوسرے تمام تعلقات سے زیادہ قوی، اہم اورعظیم ہے۔
جس طرح امت کے ہرفرد پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےمحبت، آپ کا احترام اورآپ کی اطاعت فرض ہے اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی امت کے ہرفرد کا خیال رکھتے تھے۔
اب یہ فرض مسلمان حکمرانوں پرعائد ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذاتی ضروریات اورمنافع پرعوام خصوصاً مستحق افراد کےفائدے اورضروریات کوترجیح دیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2416]