یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب : المسلمون شركاء في ثلاث
باب: تین چیزوں میں سارے مسلمانوں کی شرکت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2474
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جَدْعَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ:" الْمَاءُ وَالْمِلْحُ وَالنَّارُ"، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْمَاءُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا بَالُ الْمِلْحِ وَالنَّارِ، قَالَ: يَا حُمَيْرَاءُ! مَنْ أَعْطَى نَارًا، فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا أَنْضَجَتْ تِلْكَ النَّارُ، وَمَنْ أَعْطَى مِلْحًا، فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا طَيَّبَ ذَلِكَ الْمِلْحُ، وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ يُوجَدُ الْمَاءُ، فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَ رَقَبَةً، وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ لَا يُوجَدُ الْمَاءُ، فَكَأَنَّمَا أَحْيَاهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کون سی ایسی چیز ہے جس کا روکنا جائز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی، نمک اور آگ“ میں نے کہا: اللہ کے رسول! پانی تو ہمیں معلوم ہے کہ اس کا روکنا جائز اور حلال نہیں؟ لیکن نمک اور آگ کیوں جائز نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حمیراء! ۱؎ جس نے آگ دی گویا اس نے وہ تمام کھانا صدقہ کیا جو اس پر پکا، اور جس نے نمک دیا گویا اس نے وہ تمام کھانا صدقہ کیا جس کو اس نمک نے مزے دار بنایا، اور جس نے کسی مسلمان کو جہاں پانی ملتا ہے، ایک گھونٹ پانی پلایا گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا، اور جس نے کسی مسلمان کو ایسی جگہ ایک گھونٹ پانی پلایا جہاں پانی نہ ملتا ہو گویا اس نے اس کو نئی زندگی بخشی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2474]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سی چیز کو روک رکھنا حلال نہیں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی، نمک اور آگ کو۔“ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: ”یہ پانی جو ہے اس (کی اہمیت) کو ہم نے جان لیا۔ نمک اور آگ کا کیا معاملہ ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حمیراء! جس نے (کسی کو) آگ دی، اس نے گویا وہ سارا کھانا صدقہ کیا جو اس آگ پر تیار ہوا۔ اور جس نے نمک دیا، اس نے گویا وہ سب کچھ صدقہ کر دیا جو اس نمک سے درست ہوا۔ اور جس نے کسی مسلمان کو اس جگہ پانی کا گھونٹ پلایا جہاں پانی پایا جاتا ہے تو اس نے گویا ایک غلام آزاد کیا۔ اور جس نے مسلمان کو وہاں پانی کا گھونٹ پلایا جہاں پانی نہیں پایا جاتا تو اس نے اسے زندہ کر دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2474]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16121، ومصباح الزجاجة: 871) (ضعیف)» (علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 3384)
وضاحت: ۱؎: حمیراء: حمراء کی تصغیر ہے یعنی اے گوری چٹی سرخی مائل رنگت والی۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن جدعان: ضعيف
وتلميذه زهير بن مرزوق: مجهول (تقريب: 2050)
وعلي بن غراب عنعن (كان يدلس: تق 4783)
وللحديث شاهدان ضعيفان جدًا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 468
إسناده ضعيف
ابن جدعان: ضعيف
وتلميذه زهير بن مرزوق: مجهول (تقريب: 2050)
وعلي بن غراب عنعن (كان يدلس: تق 4783)
وللحديث شاهدان ضعيفان جدًا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 468
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥علي بن زيد القرشي، أبو الحسن علي بن زيد القرشي ← سعيد بن المسيب القرشي | ضعيف الحديث | |
👤←👥زهير بن مرزوق زهير بن مرزوق ← علي بن زيد القرشي | ضعيف الحديث | |
👤←👥علي بن عبد العزيز الفزاري، أبو الحسن، أبو الوليد علي بن عبد العزيز الفزاري ← زهير بن مرزوق | صدوق وكان يدلس ويتشيع | |
👤←👥عمار بن خالد التمار، أبو إسماعيل، أبو الفضل عمار بن خالد التمار ← علي بن عبد العزيز الفزاري | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2474
| من أعطى نارا فكأنما تصدق بجميع ما أنضجت تلك النار من أعطى ملحا فكأنما تصدق بجميع ما طيب ذلك الملح من سقى مسلما شربة من ماء حيث يوجد الماء فكأنما أعتق رقبة من سقى مسلما شربة من ماء حيث لا يوجد الماء فكأنما أحياها |
Sunan Ibn Majah Hadith 2474 in Urdu
سعيد بن المسيب القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق