🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب : من سرق من الحرز
باب: حرز (محفوظ جگہ) میں سے چرانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2596
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الثِّمَارِ، فَقَالَ:" مَا أُخِذَ فِي أَكْمَامِهِ فَاحْتُمِلَ، فَثَمَنُهُ وَمِثْلُهُ مَعَهُ، وَمَا كَانَ مِنَ الْجِرَانِ، فَفِيهِ الْقَطْعُ إِذَا بَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ، وَإِنْ أَكَلَ وَلَمْ يَأْخُذْ، فَلَيْسَ عَلَيْهِ"، قَالَ: الشَّاةُ الْحَرِيسَةُ مِنْهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" ثَمَنُهَا وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَالنَّكَالُ، وَمَا كَانَ فِي الْمُرَاحِ، فَفِيهِ الْقَطْعُ إِذَا كَانَ مَا يَأْخُذُ مِنْ ذَلِكَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ مزینہ کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھلوں کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص پھل خوشے میں سے توڑ کر چرائے تو اسے اس کی دوگنی قیمت دینی ہو گی، اور اگر پھل کھلیان میں ہو تو ہاتھ کاٹا جائے گا، بشرطیکہ وہ ڈھال کی قیمت کے برابر ہو، اور اگر اس نے صرف کھایا ہو لیا نہ ہو تو اس پر کچھ نہیں، اس شخص نے پوچھا: اگر کوئی چراگاہ میں سے بکریاں چرا لے جائے (تو کیا ہو گا)؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی دوگنی قیمت ادا کرنی ہو گی، اور سزا بھی ملے گی، اور اگر وہ اپنے باڑے میں ہو تو اس میں (چوری کرنے پر) ہاتھ کاٹا جائے بشرطیکہ چرائی گئی چیز کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2596]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/اللقطة 1 (1711)، الحدود 12 (4390)، (تحفة الأشراف: 8812)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 54 (1289)، سنن النسائی/قطع السارق 11 (4972)، مسند احمد (2/186) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ابوداود کی روایت میں ہے جو کوئی پھلوں کو منہ میں ڈال لے، اور گود میں بھر کر نہ لے جائے اس پر کچھ نہیں ہے، اور جو اٹھا کر لے جائے اس پر دوگنی قیمت ہے، اور سزا کے لئے مار ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥شعيب بن محمد السهمي
Newشعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عمرو بن شعيب القرشي، أبو إبراهيم، أبو عبد الله
Newعمرو بن شعيب القرشي ← شعيب بن محمد السهمي
ثقة
👤←👥الوليد بن كثير القرشي، أبو محمد
Newالوليد بن كثير القرشي ← عمرو بن شعيب القرشي
ثقة
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← الوليد بن كثير القرشي
ثقة ثبت
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2596
ما أخذ في أكمامه فاحتمل فثمنه ومثله معه ما كان من الجران ففيه القطع إذا بلغ ثمن المجن إن أكل ولم يأخذ فليس عليه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2596 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2596
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کسی کے باغ سے بلا اجازت پھل کھانا جائز نہیں ہے تاہم اس کی کوئی سزا نہیں۔

(2)
باغ سے پھل لے جانا قابل سزا جرم ہے۔

(3)
چوری کے نصاب سے کم مقدار کی چیز چرائی جائے تو اس کی سزا مالی جرمانہ ہے جس کی مقدار چرائی ہوئی چیز سے دگنی ہے۔

(4)
مالی جرمانے کے ساتھ جرم کی نوعیت کےمطابق چند کوڑے مارے جا سکتے ہیں۔

(5)
محفوظ جگہ سےچرائی ہوئی چیز کےبدلے ہاتھ اس وقت کاٹا جائے گا جب اس کی قیمت چوتھائی دینار تک پہنچتی ہو اس کو احادیث میں ڈھال کی قیمت کہا گیا ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانےمیں ڈھال کی اوسط قیمت یہی تھی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2596]