🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب : من تزوج امرأة أبيه من بعده
باب: جو کوئی باپ کے مرنے کے بعد اس کی بیوی سے شادی کرے اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2607
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، ح وَحَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ جَمِيعًا، عَنِ أَشْعَثَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: مَرَّ بِي خَالِي سَمَّاهُ هُشَيْمٌ فِي حَدِيثِهِ: الْحَارِثَ بْنَ عَمْرٍو وَقَدْ عَقَدَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَاءً، فَقُلْتُ لَهُ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ فَقَالَ:" بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے ماموں کا گزر میرے پاس سے ہوا (راوی حدیث ہشیم نے ان کے ماموں کا نام حارث بن عمرو بتایا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک جھنڈا باندھ دیا تھا، میں نے ان سے پوچھا: کہاں کا قصد ہے؟ انہوں نے عرض کیا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے پاس روانہ کیا ہے جس نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد اس کی بیوی (یعنی اپنی سوتیلی ماں) سے شادی کر لی ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2607]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میرے ماموں (حضرت حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ) میرے پاس سے گزرے، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جھنڈا دے کر (کسی مہم پر) روانہ فرمایا تھا۔ میں نے کہا: آپ کہاں جا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی طرف (اسے سزا دینے کے لیے) روانہ فرمایا ہے، اس نے باپ کے مرنے کے بعد اس کی بیوی (اپنی سوتیلی والدہ) سے نکاح کر لیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس کی گردن اڑا دوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2607]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 27 (4456، 4457)، سنن الترمذی/الاحکام 25 (1362)، سنن النسائی/النکاح 58 (333)، (تحفة الأشراف: 15534)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/290، 292، 295، 297)، سنن الدارمی/النکاح 43 (2285) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حارث بن عمرو الأنصاريصحابي
👤←👥البراء بن عازب الأنصاري، أبو عمارة، أبو الطفيل، أبو عمرو
Newالبراء بن عازب الأنصاري ← حارث بن عمرو الأنصاري
صحابي
👤←👥عدي بن ثابت الأنصاري
Newعدي بن ثابت الأنصاري ← البراء بن عازب الأنصاري
ثقة رمي بالتشيع
👤←👥أشعث بن سوار الكندي
Newأشعث بن سوار الكندي ← عدي بن ثابت الأنصاري
ضعيف الحديث
👤←👥حفص بن غياث النخعي، أبو عمر
Newحفص بن غياث النخعي ← أشعث بن سوار الكندي
ثقة
👤←👥سهل بن أبي سهل الرازي، أبو عثمان، أبو عمرو
Newسهل بن أبي سهل الرازي ← حفص بن غياث النخعي
ثقة
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية
Newهشيم بن بشير السلمي ← سهل بن أبي سهل الرازي
ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي
👤←👥إسماعيل بن موسى، أبو محمد، أبو إسحاق
Newإسماعيل بن موسى ← هشيم بن بشير السلمي
صدوق يتشيع
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
4457
أمرني أن أضرب عنقه وآخذ ماله
سنن ابن ماجه
2607
أمرني أن أضرب عنقه
سنن النسائى الصغرى
3333
أضرب عنقه أو أقتله
سنن النسائى الصغرى
3334
أضرب عنقه وآخذ ماله
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2607 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2607
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کسی محرم خاتون سے نکاح کرنا بڑا جرم ہے۔

(2)
اس جرم کی سزایہ ہےمجرم کوقتل کردیا جائے۔

(3)
حرم نکاح کی سزا زنا والی (رجم)
نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2607]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3333
باپ کی منکوحہ سے نکاح کرنے کا بیان۔
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے ماموں سے ملا، تو ان کے پاس جھنڈا تھا۔ تو میں نے اُن سے کہا: کہاں کا ارادہ ہے؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ایسے شخص کی گردن اڑا دینے یا اسے قتل کر دینے کے لیے بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کے انتقال کے بعد اس کی بیوی سے شادی کر لی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3333]
اردو حاشہ:
(1) اپنی والدہ سے تو کوئی نکاح نہیں کرسکتا۔ اس سے مراد والد کی منکوحہ (سوتیلی ماں) ہے۔ کوئی جاہل خیال کرسکتا ہے کہ وہ ماں نہیں ہوتی‘ لہٰذا اس سے نکاح ہوسکتا ہے‘ اس لیے صراحتاً نفی فرمائی: ﴿وَلا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ﴾ باپ والا حکم دادا‘ نانا وغیرہ کو بھی حاصل ہے کیونکہ عرفاً وہ بھی باپ ہی ہیں۔
(2) گردن اتاردوں خواہ اس نے جماع کیا ہو یا نہ۔ صرف نکاح کرنے کی یہ سزا ہے۔
(3) گردن اتاردوں یا قتل کردوں ایک ہی بات ہے۔ راوی کو شک ہے کہ ان سے الفاظ بیان فرمائے۔
(4) جھنڈے والے صحابی کا نام حضرت ابوبریدہ بن نیار تھا۔ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْهُ وَأَرْضَاہُ۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3333]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3334
باپ کی منکوحہ سے نکاح کرنے کا بیان۔
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا سے ملا، ان کے پاس ایک جھنڈا تھا میں نے ان سے کہا: آپ کہاں جا رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کے پاس بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر لی ہے۔ مجھے آپ نے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں اور اس کا مال اپنے قبضہ میں کر لوں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3334]
اردو حاشہ:
(1) چچا سابقہ روایت میں ’اموں کہا گیا ہے ایک رشتہ رضاعی ہو‘ دوسرا نسبی۔ اس دور میں رضاعی رشتے عام تھے کیونکہ دیگر عورتوں سے رضاعت کا بہت رواج تھا۔
(2) جھنڈا یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی طرف بھیجا ہے۔
(3) اس کا مال چھین لوں گویا باپ کی منکوحہ سے نکاح ارتداد کے جرم کے برابر ہے‘ اس لیے اس کا مال بیت المال میں جمع ہوگا۔ جس طرح مرتد قتل کیا جاتا ہے اور اس کا مال اس کے ورثاء کو دینے کی بجائے بیت المال میں جمع ہوتا ہے۔ [لا يَرِثُ المُسْلِمُ الكافِرَ، وَلا يَرِثُ الكافِرُ المُسْلِمَ ] مسلمان کافر کا وارث ہے نہ کافرمسلمان کا۔ (صحیح البخاری‘ الفرائض‘ حدیث: 6764‘ وصحیح مسلم‘ الفرائض‘ حدیث: 1614)
(4) شریعت مطہرہ نے ہر ایک کے حقوق کی کماحقہ حفاظت کی ہے۔
(5) معلوم ہوتا ہے کہ ضبط مال کے ساتھ یا مالی جرمانے کے ساتھ بھی سزا دی جاسکتی ہے۔
(6) حاکم وقت سنگین جرم کی بنا پر تعذیراً قتل کی سزا دے سکتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3334]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4457
محرم سے زنا کرنے والے کے حکم کا بیان۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا سے ملا ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا میں نے ان سے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر رکھی ہے، اور حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن مار دوں اور اس کا مال لے لوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4457]
فوائد ومسائل:
جس نے جانتے بوجھتے بغیر کسی اشتباہ کے اپنی کسی محرم سےنکاح کیا ہو یا بدکاری کی ہو تواس کی حد قتل ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4457]

Sunan Ibn Majah Hadith 2607 in Urdu