🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب : الميراث من الدية
باب: دیت کی میراث کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2643
حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ خَالِدٍ النُّمَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَضَى لِحَمَلِ بْنِ مَالِكٍ الْهُذَلِيِّ اللِّحْيَانِيِّ بِمِيرَاثِهِ مِنَ امْرَأَتِهِ الَّتِي قَتَلَتْهَا امْرَأَتُهُ الْأُخْرَى".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمل بن مالک ہذلی لحیانی رضی اللہ عنہ کو ان کی بیوی کی دیت میں سے میراث دلائی جس کو ان کی دوسری بیوی نے قتل کر دیا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2643]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5064، ومصباح الزجاجة: 932)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/79) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اسحاق بن یحییٰ مجہول ہے، اور عبادہ رضی اللہ عنہ سے ان کی ملاقات بھی نہیں ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إسحاق لم يدرك عبادة رضي اللّٰه عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 474

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبادة بن الصامت الأنصاري، أبو الوليدصحابي
👤←👥إسحاق بن يحيى الأنصاري
Newإسحاق بن يحيى الأنصاري ← عبادة بن الصامت الأنصاري
مجهول الحال
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد
Newموسى بن عقبة القرشي ← إسحاق بن يحيى الأنصاري
ثقة فقيه إمام في المغازي
👤←👥الفضيل بن سليمان النميري، أبو سليمان
Newالفضيل بن سليمان النميري ← موسى بن عقبة القرشي
صدوق له خطأ كثير
👤←👥عبد ربه بن خالد البصري، أبو المغلس
Newعبد ربه بن خالد البصري ← الفضيل بن سليمان النميري
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2643
قضى لحمل بن مالك الهذلي اللحياني بميراثه من امرأته التي قتلتها امرأته الأخرى
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2643 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2643
اردو حاشہ:
فائدہ:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے جیسا کہ ہمارے فاضل محقق اور دیگر محققین نے کہا ہے جبکہ حمل بن مالک بن نابغہ ؓ کا تفصیلی واقعہ پیچھے حضرت عبداللہ بن عباس کی حدیث(2641)
میں گزر چکا ہے جسے محققین نے صحیح قراردیا ہے، لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
شیخ البانی اس کی بابت یوں لکھتے ہیںصحیح بماقبلہ بنا بریں دیت بھی مقتول عورت کا ترکہ ہے، اس لیے اس میں بھی خاوند کو حصہ ملتا ہے جب کہ دیت دینا قاتل عورت کے عصبہ کے ذمے ہے، اور خاوند عصبہ میں شامل نہیں بلکہ اصحاب الفروض میں سے ہے جس کا حصہ مقرر ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2643]