سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب : النهي عن الإمساك في الحياة والتبذير عند الموت
باب: زندگی میں بخیلی اور موت کے وقت فضول خرچی سے ممانعت۔
حدیث نمبر: 2707
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ جَحَّاشٍ الْقُرَشِيِّ ، قَالَ: بَزَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَفِّهِ ثُمَّ وَضَعَ أُصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ وَقَالَ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:" أَنَّى تُعْجِزُنِي ابْنَ آدَمَ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ مِثْلِ هَذِهِ فَإِذَا بَلَغَتْ نَفْسُكَ هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ، قُلْتَ: أَتَصَدَّقُ وَأَنَّى أَوَانُ الصَّدَقَةِ".
بسر بن جحاش قرشی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی پر لعاب مبارک ڈالا، اور اس پر شہادت کی انگلی رکھ کر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! تم مجھے کس طرح عاجز کرتے ہو، حالانکہ میں نے تمہیں اسی جیسی چیز (منی) سے پیدا کیا ہے پھر جب تمہاری سانس یہاں پہنچ جاتی ہے، آپ نے اپنے حلق کی جانب اشارہ فرمایا تو کہتا ہے کہ میں صدقہ کرتا ہوں، اب صدقہ کرنے کا وقت کہاں رہا“؟ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الوصايا/حدیث: 2707]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: 2018، ومصباح الزجاجة: 960)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/210) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: بلکہ صدقہ کا عمدہ وقت وہ ہے جب آدمی صحیح اور تندرست ہو، اور وہ مال کا محتاج ہو بہت دنوں تک جینے کی توقع ہو، لیکن ان سب باتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے اور اپنا عمدہ مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کرے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2707
| أنى تعجزني ابن آدم وقد خلقتك من مثل هذه فإذا بلغت نفسك هذه وأشار إلى حلقه قلت أتصدق وأنى أوان الصدقة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2707 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2707
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
اللہ تعالی انسان کا خالق ہے، وہ ہر لحاظ سے بندے پر قدرت رکھتا ہے جب کہ بندہ ہر لحاظ سے اس کا محتاج ہے۔
(2)
یہ اللہ کا احسان ہے کہ انسان کو ایک ناقابل ذکرحقیر چیز سے پیدا کرکے اسے اشرف المخلوقات بنا دیا۔
(3)
بعض مقامات پر صراحت کی بجائے کنائے کے الفاظ بولنا بہتر ہوتا ہے۔
فوائد و مسائل:
اللہ تعالی انسان کا خالق ہے، وہ ہر لحاظ سے بندے پر قدرت رکھتا ہے جب کہ بندہ ہر لحاظ سے اس کا محتاج ہے۔
(2)
یہ اللہ کا احسان ہے کہ انسان کو ایک ناقابل ذکرحقیر چیز سے پیدا کرکے اسے اشرف المخلوقات بنا دیا۔
(3)
بعض مقامات پر صراحت کی بجائے کنائے کے الفاظ بولنا بہتر ہوتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2707]
جبير بن نفير الحضرمي ← بسر بن جحاش القرشي