🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب : فضل غزو البحر
باب: سمندری جہاد کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2778
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْجُبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ الشَّامِيُّ ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" شَهِيدُ الْبَحْرِ مِثْلُ شَهِيدَيِ الْبَرِّ، وَالْمَائِدُ فِي الْبَحْرِ كَالْمُتَشَحِّطِ فِي دَمِهِ فِي الْبَرِّ، وَمَا بَيْنَ الْمَوْجَتَيْنِ كَقَاطِعِ الدُّنْيَا فِي طَاعَةِ اللَّهِ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَلَ مَلَكَ الْمَوْتِ بِقَبْضِ الْأَرْوَاحِ إِلَّا شَهِيدَ الْبَحْرِ فَإِنَّهُ يَتَوَلَّى قَبْضَ أَرْوَاحِهِمْ، وَيَغْفِرُ لِشَهِيدِ الْبَرِّ الذُّنُوبَ كُلَّهَا إِلَّا الدَّيْنَ، وَلِشَهِيدِ الْبَحْرِ الذُّنُوبَ وَالدَّيْنَ".
ابواسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: سمندر کا شہید خشکی کے دو شہیدوں کے برابر ہے، سمندر میں جس کا سر چکرائے وہ خشکی میں اپنے خون میں لوٹنے والے کی مانند ہے، اور ایک موج سے دوسری موج تک جانے والا اللہ کی اطاعت میں پوری دنیا کا سفر کرنے والے کی طرح ہے، اللہ تعالیٰ نے روح قبض کرنے کے لیے ملک الموت (عزرائیل) کو مقرر کیا ہے، لیکن سمندر کے شہید کی جان اللہ تعالیٰ خود قبض کرتا ہے، خشکی میں شہید ہونے والے کے قرض کے علاوہ تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں، لیکن سمندر کے شہید کے قرض سمیت سارے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2778]
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: سمندر کا شہید خشکی کے دو شہیدوں کے برابر ہے۔ اور سمندر (کے سفر) میں جس کا سر چکراتا ہے وہ خشکی میں اپنے خون سے آلودہ ہو کر تڑپنے والے کی طرح ہے، اور دو موجوں کے درمیان (کا فاصلہ طے کرنے والا) ایسے ہے جیسے اللہ کی راہ میں ساری دنیا کا فاصلہ طے کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ نے موت کے فرشتے کو روحیں قبض کرنے پر مقرر کیا ہے سوائے سمندر کے شہید کے، ان کی روحیں اللہ تعالیٰ خود قبض فرماتا ہے۔ وہ خشکی کے شہید کے سارے گناہ بخش دیتا ہے سوائے قرض کے، اور سمندر کے شہید کے گناہ بھی بخش دیتا ہے اور قرض بھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2778]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4872، ومصباح الزجاجة: 985) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (سند میں عفیر بن معدان شامی سخت ضعیف روای ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 115)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عفير: ضعيف
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 479
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥صدي بن عجلان الباهلي، أبو أمامةصحابي
👤←👥سليم بن عامر الكلاعي، أبو يحيى
Newسليم بن عامر الكلاعي ← صدي بن عجلان الباهلي
ثقة
👤←👥عفير بن معدان الحضرمي، أبو معدان، أبو عائذ
Newعفير بن معدان الحضرمي ← سليم بن عامر الكلاعي
منكر الحديث
👤←👥قيس بن عمران الكندي
Newقيس بن عمران الكندي ← عفير بن معدان الحضرمي
مقبول
👤←👥عبيد الله بن يوسف الجبيري، أبو حفص
Newعبيد الله بن يوسف الجبيري ← قيس بن عمران الكندي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2778
شهيد البحر مثل شهيدي البر والمائد في البحر كالمتشحط في دمه في البر وما بين الموجتين كقاطع الدنيا في طاعة الله إن الله وكل ملك الموت بقبض الأرواح إلا شهيد البحر فإنه يتولى قبض أرواحهم يغفر لشهيد البر الذنوب كلها إلا الدين ولشهيد البحر الذنوب والدين
Sunan Ibn Majah Hadith 2778 in Urdu