سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب : فضل غزو البحر
باب: سمندری جہاد کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2778
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْجُبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ الشَّامِيُّ ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" شَهِيدُ الْبَحْرِ مِثْلُ شَهِيدَيِ الْبَرِّ، وَالْمَائِدُ فِي الْبَحْرِ كَالْمُتَشَحِّطِ فِي دَمِهِ فِي الْبَرِّ، وَمَا بَيْنَ الْمَوْجَتَيْنِ كَقَاطِعِ الدُّنْيَا فِي طَاعَةِ اللَّهِ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَلَ مَلَكَ الْمَوْتِ بِقَبْضِ الْأَرْوَاحِ إِلَّا شَهِيدَ الْبَحْرِ فَإِنَّهُ يَتَوَلَّى قَبْضَ أَرْوَاحِهِمْ، وَيَغْفِرُ لِشَهِيدِ الْبَرِّ الذُّنُوبَ كُلَّهَا إِلَّا الدَّيْنَ، وَلِشَهِيدِ الْبَحْرِ الذُّنُوبَ وَالدَّيْنَ".
ابواسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”سمندر کا شہید خشکی کے دو شہیدوں کے برابر ہے، سمندر میں جس کا سر چکرائے وہ خشکی میں اپنے خون میں لوٹنے والے کی مانند ہے، اور ایک موج سے دوسری موج تک جانے والا اللہ کی اطاعت میں پوری دنیا کا سفر کرنے والے کی طرح ہے، اللہ تعالیٰ نے روح قبض کرنے کے لیے ملک الموت (عزرائیل) کو مقرر کیا ہے، لیکن سمندر کے شہید کی جان اللہ تعالیٰ خود قبض کرتا ہے، خشکی میں شہید ہونے والے کے قرض کے علاوہ تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں، لیکن سمندر کے شہید کے قرض سمیت سارے گناہ معاف ہوتے ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2778]
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”سمندر کا شہید خشکی کے دو شہیدوں کے برابر ہے۔ اور سمندر (کے سفر) میں جس کا سر چکراتا ہے وہ خشکی میں اپنے خون سے آلودہ ہو کر تڑپنے والے کی طرح ہے، اور دو موجوں کے درمیان (کا فاصلہ طے کرنے والا) ایسے ہے جیسے اللہ کی راہ میں ساری دنیا کا فاصلہ طے کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ نے موت کے فرشتے کو روحیں قبض کرنے پر مقرر کیا ہے سوائے سمندر کے شہید کے، ان کی روحیں اللہ تعالیٰ خود قبض فرماتا ہے۔ وہ خشکی کے شہید کے سارے گناہ بخش دیتا ہے سوائے قرض کے، اور سمندر کے شہید کے گناہ بھی بخش دیتا ہے اور قرض بھی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2778]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4872، ومصباح الزجاجة: 985) (ضعیف جدا)» (سند میں عفیر بن معدان شامی سخت ضعیف روای ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 115)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عفير: ضعيف
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 479
إسناده ضعيف
عفير: ضعيف
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 479
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2778
| شهيد البحر مثل شهيدي البر والمائد في البحر كالمتشحط في دمه في البر وما بين الموجتين كقاطع الدنيا في طاعة الله إن الله وكل ملك الموت بقبض الأرواح إلا شهيد البحر فإنه يتولى قبض أرواحهم يغفر لشهيد البر الذنوب كلها إلا الدين ولشهيد البحر الذنوب والدين |
Sunan Ibn Majah Hadith 2778 in Urdu
سليم بن عامر الكلاعي ← صدي بن عجلان الباهلي