🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب : فضل الشهادة في سبيل الله
باب: اللہ کی راہ میں شہادت کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2799
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ عز وجل سِتُّ خِصَالٍ: يَغْفِرُ لَهُ فِي أَوَّلِ دُفْعَةٍ مِنْ دَمِهِ، وَيُرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَيَأْمَنُ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ، وَيُحَلَّى حُلَّةَ الْإِيمَانِ، وَيُزَوَّجُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، وَيُشَفَّعُ فِي سَبْعِينَ إِنْسَانًا مِنْ أَقَارِبِهِ".
مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے یہاں شہید کے لیے چھ بھلائیاں ہیں: ۱- خون کی پہلی ہی پھوار پر اس کی مغفرت ہو جاتی ہے، اور جنت میں اس کو اپنا ٹھکانا نظر آ جاتا ہے ۲- عذاب قبر سے محفوظ رہتا ہے، ۳- حشر کی بڑی گھبراہٹ سے مامون و بےخوف رہے گا، ۴- ایمان کا جوڑا پہنایا جاتا ہے، ۵- حورعین سے نکاح کر دیا جاتا ہے، ۶- اس کے اعزہ و اقرباء میں سے ستر آدمیوں کے بارے میں اس کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2799]
حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے پاس شہید کے لیے چھ انعامات ہیں: خون کے پہلے قطرات کے ساتھ ہی اس کی مغفرت ہو جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانا دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذاب قبر سے محفوظ رکھا جاتا ہے، وہ (قیامت کے دن) بڑی گھبراہٹ سے محفوظ رہے گا، اسے ایمان کا لباس فاخرہ پہنایا جائے گا، خوبصورت آنکھوں والی حوروں سے اس کی شادی کر دی جائے گی اور اس کے ستر رشتے داروں کے حق میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2799]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/فضائل الجہاد 25 (1663)، (تحفة الأشراف: 11556)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/131) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥المقدام بن معدي كرب الكندي، أبو يحيى، أبو كريمةصحابي
👤←👥خالد بن معدان الكلاعي، أبو عبد الله
Newخالد بن معدان الكلاعي ← المقدام بن معدي كرب الكندي
ثقة
👤←👥بحير بن سعد السحولي، أبو خالد
Newبحير بن سعد السحولي ← خالد بن معدان الكلاعي
ثقة ثبت
👤←👥إسماعيل بن عياش العنسي، أبو عتبة
Newإسماعيل بن عياش العنسي ← بحير بن سعد السحولي
صدوق في روايته عن أهل بلده وخلط في غيرهم
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← إسماعيل بن عياش العنسي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1663
للشهيد عند الله ست خصال يغفر له في أول دفعة ويرى مقعده من الجنة ويجار من عذاب القبر ويأمن من الفزع الأكبر ويوضع على رأسه تاج الوقار الياقوتة منها خير من الدنيا وما فيها ويزوج اثنتين وسبعين زوجة من الحور العين ويشفع في سبعين من أقاربه
سنن ابن ماجه
2799
للشهيد عند الله ست خصال يغفر له في أول دفعة من دمه ويرى مقعده من الجنة ويجار من عذاب القبر ويأمن من الفزع الأكبر ويحلى حلة الإيمان ويزوج من الحور العين ويشفع في سبعين إنسانا من أقاربه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2799 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2799
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
یہ انعامات اس شہید کے لیے ہیں جو صرف اللہ کی رضا کے لیے خلوص قلب کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے شہید ہوتا ہے۔

(2)
جنت میں گھر دکھایا جانا اس کے لیے خوش خبری ہے کہ جنت میں داخل ہونے سے پہلے جان نکلنے کے دوران میں ہی اسے جنت کی بشارت مل جاتی ہے۔

(3)
گناہ گاروں کے لیے قبر کا عذاب بہت سی احادیث سے ثابت ہے۔
شہید اس سے محفوظ رہتا ہے۔

(4)
قیامت کے دن گناہ گار اپنے اپنے گناہوں کے مطابق پریشان ہونگے۔
شہید کے گناہ معاف ہوچکے ہونگے اس لیے وہ پریشانی سے محفوظ رہے گا۔

(5)
ایک ہی طرح کے دو کپڑوں کو حله (جوڑا)
کہتے ہیں۔
ایمان کے حله سے مراد ایسا لباس ہے جواس کے ایمان کی علامت ہوگا۔

(6)
حوروں سے مراد وہ جنتی عورتیں ہیں جو اللہ تعالی نے اپنے نیک بندوں کے لیے اپنی قدرت کاملہ سے جنت میں پیدا کی ہیں۔
ہر شہید کو کم ازکم دو حوریں ملیں گی۔

(7)
قیامت کے دن شفاعت اللہ تعالی کی طرف سے اجازت ملنے پر ہی کی جا سکے گی، یہ گناہ گاروں کے لیے مغفرت کا باعث ہوگی۔
اور شفاعت کرنے والے کے لیے ایک عظیم اعزاز۔

(8)
کسی مومن کا درجہ جتنا زیادہ بلند ہوگا اسے اتنے ہی زیادہ افراد کے حق میں شفاعت کی اجازت دی جائے گی۔
واللہ أعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2799]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1663
شہید کے ثواب کا بیان۔
مقدام بن معدیکرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک شہید کے لیے چھ انعامات ہیں، (۱) خون کا پہلا قطرہ گرنے کے ساتھ ہی اس کی مغفرت ہو جاتی ہے، (۲) وہ جنت میں اپنی جگہ دیکھ لیتا ہے، (۳) عذاب قبر سے محفوظ رہتا ہے، (۴) «فزع الأكبر» (عظیم گھبراہٹ والے دن) سے مامون رہے گا، (۵) اس کے سر پر عزت کا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے، (۶) بہتر (۷۲) جنتی حوروں سے اس کی شادی کی جائے گی، اور اس کے ستر رشتہ داروں کے سلسلے میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل الجهاد/حدیث: 1663]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ چھ خصلتیں ایسی ہیں کہ شہید کے سوا اور کسی کو حاصل نہیں ہوں گی۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1663]

Sunan Ibn Majah Hadith 2799 in Urdu