🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. باب : الغلول
باب: مال غنیمت میں خیانت اور چوری کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2849
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: كَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: كِرْكِرَةُ، فَمَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ فِي النَّارِ"، فَذَهَبُوا يَنْظُرُونَ، فَوَجَدُوا عَلَيْهِ كِسَاءً أَوْ عَبَاءَةً قَدْ غَلَّهَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کی نگہبانی پر کرکرہ نامی ایک شخص تھا، اس کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنم میں ہے، لوگ اس کا سامان دیکھنے لگے تو اس میں ایک کملی یا عباء ملی جو اس نے مال غنیمت میں سے چرا لی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2849]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 190 (3074)، (تحفة الأشراف: 8632)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/160) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سالم بن أبي الجعد الأشجعي
Newسالم بن أبي الجعد الأشجعي ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← سالم بن أبي الجعد الأشجعي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← سفيان بن عيينة الهلالي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3074
هو في النار فذهبوا ينظرون إليه فوجدوا عباءة قد غلها
سنن ابن ماجه
2849
هو في النار فذهبوا ينظرون فوجدوا عليه كساء أو عباءة قد غلها
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2849 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2849
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مال غنیمت میں خیانت بہت بڑا جرم ہے۔

(2)
چرائی ہوئی چیز معمولی ہو تو بھی جرم کی شناعت میں فرق نہیں پڑتا۔

(3)
اس حدیث سے ان لوگوں کا بھی رد ہوتا ہے جو کہتے ہیں کہ مومن جہنم میں نہیں جا سکتا۔
کتاب وسنت کے دلائل پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے گناہ کی وجہ سے ایک گناہ گار مومن شخص بھی جہنم کا مستحق ہو سکتا ہے، تاہم جہنم کا دائمی عذاب صرف کافروں اور مشرکوں کے لیے ہے۔
واللہ اعلم
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2849]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3074
3074. حضرت عبداللہ بن عمرو ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان پر ایک شخص تعینات تھا جسے کرکره کہاجاتا تھا۔ جب وہ مرگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو جہنم میں گیا۔ جب صحابہ ؓنے اس کا سامان وغیرہ دیکھنا شروع کیا تو اس میں ایک کوٹ ملا جسے خیانت کرکے اس نے چھپا لیا تھا۔ ابو عبداللہ(امام بخاری ؒ) کہتے ہیں کہ محمد بن سلام نے کرکرہ کو کاف کے فتحہ (زبر) سے بیان کیا ہے اور اسی طرح مضبوط ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3074]
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ مال غنیمت میں سے ذرا سی چیز کی چوری بھی حرام ہے جس کی سزا یقیناً دوزخ ہو گی۔
اس حدیث سے ان لوگوں کا رد ہوا جو کہتے ہیں کہ مومن گناہوں کی وجہ سے دوزخ نہیں جائے گا۔
قرآن پاک نے صاف اعلان کیا ہے۔
﴿وَمَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ﴾ (آل عمران: 161)
خیانت کرنے والا خیانت کی چیز کو اپنے سر پر اٹھائے قیامت کے دن حاضر ہو گا۔
یہ وہ جرم ہے کہ اگر کسی مجاہد سے بھی سرزد ہو تو اس کا عمل جہاد اس سے باطل ہو جاتا ہے جیسا کہ حدیث ہذا سے ظاہر ہوا۔
وفي الحدیث تحریم قلیل الغلول وکثیرة وقوله هو في النار أي یعذب علی معصیة أو المراد هو في النار إن لم یعف اللہ عنه۔
(فتح)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3074]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3074
3074. حضرت عبداللہ بن عمرو ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان پر ایک شخص تعینات تھا جسے کرکره کہاجاتا تھا۔ جب وہ مرگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو جہنم میں گیا۔ جب صحابہ ؓنے اس کا سامان وغیرہ دیکھنا شروع کیا تو اس میں ایک کوٹ ملا جسے خیانت کرکے اس نے چھپا لیا تھا۔ ابو عبداللہ(امام بخاری ؒ) کہتے ہیں کہ محمد بن سلام نے کرکرہ کو کاف کے فتحہ (زبر) سے بیان کیا ہے اور اسی طرح مضبوط ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3074]
حدیث حاشیہ:

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مال غنیمت میں سے چوری کرنے والے کا سامان واسباب جلادینا چاہیے جیسا کہ ابوداؤد ؒ کی ایک روایت میں ہے۔
(سنن أبي داود، الجھاد، حدیث: 2713)
لیکن امام بخاری ؒ کا موقف ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو ؒ نے اس سلسلے میں جو روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے اس میں سامان کو جلادینے کا ذکر نہیں ہے۔
اس بناپر صحیح تر یہی ہے کہ خیانت کرنے والے کا سامان جلانا جائز نہیں بلکہ اس روایت کے مطابق چوری کرنے والا خود آگ میں جلے گا۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مال غنیمت میں معمولی سی چوری بھی حرام ہے جس کی سزا یقیناً جہنم ہے۔
یہ وہ جرم ہے کہ اگر کسی مجاہد سے بھی سرزد ہوتو اس کا عمل جہاد باطل ہوجاتاہے۔
بہرحال خیانت تھوڑی ہو یا زیادہ جرم میں سب برابر ہیں۔
قیامت کے دن بھرے مجمع میں اس طرح کے خیانت پیشہ لوگوں کو برسرعام ذلیل وخوار کیاجائے گا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3074]