🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. باب : البيعة
باب: بیعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2868
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَتَّابٍ مَوْلَى هُرْمُزَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ:" بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، فَقَالَ: فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی، تو آپ نے فرمایا: جہاں تک تم سے ہو سکے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2868]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1087)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/119، 172، 185) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: سبحان اللہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ماں باپ سے زیادہ اپنی امت پر مہربان تھے، آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں تک تم سے ہو سکے تاکہ وہ لوگ جھوٹے نہ ہوں جب کسی ایسی بات کا ان کو حکم دیا جائے جو ان کی طاقت سے خارج ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥عتاب البصري
Newعتاب البصري ← أنس بن مالك الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عتاب البصري
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2868
بايعنا رسول الله على السمع والطاعة فيما استطعتم
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2868 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2868
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول و فعل شریعت ہے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سمع وطاعت اسلام کی بنیاد ہے۔

(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا:
جس قدر تم سے ہوسکے آپ کی شفقت کا اظہار ہے۔
مقصد یہ تھا کہ ایسا نہ ہو کہ کوئی حکم کسی صحابی کے لیے پورا کرنا مشکل ہو اور وہ مشقت اٹھا کر اسے پورا کرنے کی کوشش کرے۔
اور اگر نہ کرسکے تو وعدے کی خلاف ورزی شمار ہو۔

(3)
قائد کو اپنے ساتھیوں کی مشکلات کا احساس کرنا چاہیے اور ہر شخص سے وہی کام لینا چاہیے جس کو انجام دینے کی وہ صلاحیت رکھتا ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2868]