🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب : السواك
باب: مسواک کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 289
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَسَوَّكُوا فَإِنَّ السِّوَاكَ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ، مَا جَاءَنِي جِبْرِيلُ إِلَّا أَوْصَانِي بِالسِّوَاكِ، حَتَّى لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يُفْرَضَ عَلَيَّ وَعَلَى أُمَّتِي، وَلَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَفَرَضْتُهُ لَهُمْ، وَإِنِّي لَأَسْتَاكُ حَتَّى لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أُحْفِيَ مَقَادِمَ فَمِي".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسواک کرو اس لیے کہ مسواک منہ کو پاک کرنے کا ذریعہ اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا سبب ہے، جبرائیل جب بھی میرے پاس آئے تو انہوں نے مجھے مسواک کی وصیت کی، یہاں تک کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں میرے اور میری امت کے اوپر اسے فرض نہ کر دیا جائے، اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ مجھے ڈر ہے کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا تو امت پر مسواک کو فرض کر دیتا، اور میں خود اس قدر مسواک کرتا ہوں کہ مجھے ڈر ہونے لگتا ہے کہ کہیں میں اپنے مسوڑھوں کو نہ چھیل ڈالوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 289]
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسواک کیا کرو کیونکہ مسواک منہ صاف کرنے والی ہے اور اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے والی ہے۔ جبریل علیہ السلام جب بھی میرے پاس آئے، مسواک کی تاکید ضرور کی۔ حتیٰ کہ مجھے خوف محسوس ہوا کہ مجھ پر اور میری امت پر وہ (مسواک) فرض کر دی جائے گی۔ اور اگر مجھے امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں اسے ان پر فرض کر دیتا۔ میں تو اس قدر مسواک کرتا ہوں کہ مجھے خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ منہ کا اگلا حصہ چھیل ڈالوں گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 289]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4917، ومصباح الزجاجة: 119)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/263) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (حدیث کی سند میں مذکور علی بن یزید منکر الحدیث ہے، نیز عثمان کی علی بن یزید سے روایت کی علماء نے تضعیف کی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عثمان بن أبي العاتكة: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 386

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥صدي بن عجلان الباهلي، أبو أمامةصحابي
👤←👥القاسم بن عبد الرحمن الشامي، أبو عبد الرحمن
Newالقاسم بن عبد الرحمن الشامي ← صدي بن عجلان الباهلي
ثقة
👤←👥علي بن يزيد الألهاني، أبو الحسن، أبو عبد الملك
Newعلي بن يزيد الألهاني ← القاسم بن عبد الرحمن الشامي
منكر الحديث
👤←👥عثمان بن سليمان الأزدي، أبو حفص
Newعثمان بن سليمان الأزدي ← علي بن يزيد الألهاني
صدوق يخطئ
👤←👥محمد بن شعيب القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن شعيب القرشي ← عثمان بن سليمان الأزدي
ثقة
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← محمد بن شعيب القرشي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
289
السواك مطهرة للفم مرضاة للرب ما جاءني جبريل إلا أوصاني بالسواك حتى لقد خشيت أن يفرض علي وعلى أمتي ولولا أني أخاف أن أشق على أمتي لفرضته لهم وإني لأستاك حتى لقد خشيت أن أحفي مقادم فمي
Sunan Ibn Majah Hadith 289 in Urdu