🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب : الحج جهاد النساء
باب: حج عورتوں کا جہاد ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2902
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيِّ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَجُّ جِهَادُ كُلِّ ضَعِيفٍ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج ہر ناتواں اور ضعیف کا جہاد ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2902]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18211، ومصباح الزجاجة: 1023)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الحج 4 (2629)، مسند احمد (2/21، 6/294، 303، 314) (حسن)» ‏‏‏‏ (ابوجعفر الباقر کا سماع ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ثابت نہیں ہے، لیکن شواہد و متابعات سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 3519)۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمةصحابية
👤←👥محمد الباقر، أبو جعفر
Newمحمد الباقر ← أم سلمة زوج النبي
ثقة
👤←👥القاسم بن الفضل الحداني، أبو المغيرة
Newالقاسم بن الفضل الحداني ← محمد الباقر
ثقة رمي بالإرجاء
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← القاسم بن الفضل الحداني
ثقة حافظ إمام
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2902
الحج جهاد كل ضعيف
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2902 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2902
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ تعالی نے بعض معذوروں کو جہاد میں شریک نہ ہونے کی اجازت دی ہے۔
ارشاد ہے ﴿لَّيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلَى الْمَرْضَىٰ وَلَا عَلَى الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنفِقُونَ حَرَجٌ ﴾ (التوبة، 9: 91)
ضعیفوں بیماروں اور ان (ناداروں)
پر کوئی حرج نہیں جن کے پاس خرچ کرنے کو کچھ نہیں۔
اسی طرح عورتوں اور بچوں پر بھی جہاد فرض نہیں۔

(2)
عورتیں بچے اور بوڑھے جو جہاد نہیں کرسکتے اسی طرح نابینا اور لنگڑا وغیرہ ان سب کا یہی حکم ہے۔

(3)
ایسے معذوروں کے لیے قرب الہی اور عظیم ثواب حاصل کرنے کا ذریعہ حج اور عمرہ ہے۔
ان لوگوں کے لیے یہی مشقت جہاد کے برابر ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2902]