سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب : الحج جهاد النساء
باب: حج عورتوں کا جہاد ہے۔
حدیث نمبر: 2902
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيِّ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَجُّ جِهَادُ كُلِّ ضَعِيفٍ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج ہر ناتواں اور ضعیف کا جہاد ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2902]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18211، ومصباح الزجاجة: 1023)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الحج 4 (2629)، مسند احمد (2/21، 6/294، 303، 314) (حسن)» (ابوجعفر الباقر کا سماع ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ثابت نہیں ہے، لیکن شواہد و متابعات سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 3519)۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمة | صحابية | |
👤←👥محمد الباقر، أبو جعفر محمد الباقر ← أم سلمة زوج النبي | ثقة | |
👤←👥القاسم بن الفضل الحداني، أبو المغيرة القاسم بن الفضل الحداني ← محمد الباقر | ثقة رمي بالإرجاء | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← القاسم بن الفضل الحداني | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2902
| الحج جهاد كل ضعيف |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2902 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2902
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ تعالی نے بعض معذوروں کو جہاد میں شریک نہ ہونے کی اجازت دی ہے۔
ارشاد ہے ﴿لَّيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلَى الْمَرْضَىٰ وَلَا عَلَى الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنفِقُونَ حَرَجٌ ﴾ (التوبة، 9: 91)
ضعیفوں بیماروں اور ان (ناداروں)
پر کوئی حرج نہیں جن کے پاس خرچ کرنے کو کچھ نہیں۔
اسی طرح عورتوں اور بچوں پر بھی جہاد فرض نہیں۔
(2)
عورتیں بچے اور بوڑھے جو جہاد نہیں کرسکتے اسی طرح نابینا اور لنگڑا وغیرہ ان سب کا یہی حکم ہے۔
(3)
ایسے معذوروں کے لیے قرب الہی اور عظیم ثواب حاصل کرنے کا ذریعہ حج اور عمرہ ہے۔
ان لوگوں کے لیے یہی مشقت جہاد کے برابر ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ تعالی نے بعض معذوروں کو جہاد میں شریک نہ ہونے کی اجازت دی ہے۔
ارشاد ہے ﴿لَّيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلَى الْمَرْضَىٰ وَلَا عَلَى الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنفِقُونَ حَرَجٌ ﴾ (التوبة، 9: 91)
ضعیفوں بیماروں اور ان (ناداروں)
پر کوئی حرج نہیں جن کے پاس خرچ کرنے کو کچھ نہیں۔
اسی طرح عورتوں اور بچوں پر بھی جہاد فرض نہیں۔
(2)
عورتیں بچے اور بوڑھے جو جہاد نہیں کرسکتے اسی طرح نابینا اور لنگڑا وغیرہ ان سب کا یہی حکم ہے۔
(3)
ایسے معذوروں کے لیے قرب الہی اور عظیم ثواب حاصل کرنے کا ذریعہ حج اور عمرہ ہے۔
ان لوگوں کے لیے یہی مشقت جہاد کے برابر ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2902]
محمد الباقر ← أم سلمة زوج النبي