🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب : السراويل والخفين للمحرم إذا لم يجد إزارا أو نعلين
باب: تہ بند اور جوتا نہ ہو تو محرم پاجامہ اور موزے پہن لے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2932
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو جوتے نہ پائے تو وہ موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کر لے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2932]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے جوتے میسر نہ ہوں، وہ موزے پہن لے اور انہیں ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ لے (تاکہ جوتوں کی طرح بن جائیں)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2932]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث نافع تقدم تخریجہ، (2929)، وحدیث عبد اللہ بن دینار تقدم تخریجہ، (2930)، (تحفة الأشراف: 2930) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن دينار القرشي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن دينار القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن دينار القرشي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← نافع مولى ابن عمر
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥أحمد بن أبي بكر القرشي، أبو مصعب
Newأحمد بن أبي بكر القرشي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5852
من لم يجد نعلين فليلبس خفين وليقطعهما أسفل من الكعبين
صحيح مسلم
2793
من لم يجد نعلين فليلبس الخفين وليقطعهما أسفل من الكعبين
سنن النسائى الصغرى
2681
إذا لم يجد المحرم النعلين فليلبس الخفين وليقطعهما أسفل من الكعبين
سنن ابن ماجه
2932
من لم يجد نعلين فليلبس خفين وليقطعهما أسفل من الكعبين
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
316
من لم يجد نعلين فليلبس خفين، وليقطعهما اسفل من الكعبين
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2932 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2932
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مرد کے لیے سلا ہوا کپڑا پہننا منع ہے البتہ مجبوری کی حالت میں شلوار یا پاجامہ پہننا جائز ہے۔

(2)
احرام کی حالت میں چمڑے کے موزے پہننا بھی جائز نہیں لیکن جس کے پاس جوتے نہ ہوں وہ پہن سکتا ہے۔

(3)
علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر سعودی علماء کی رائے یہ ہے کہ اگر جوتے نہ پہننے کی وجہ سے موزے پہننے پڑیں تو انھیں کاٹنا ضروری نہیں کیونکہ کاٹنے کا حکم مدینے میں دیا گیا تھا بعد میں سفر حج کے دوران میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی صورت میں موزے پہننے کی اجازت دی اور کاٹنے کا حکم نہیں دیا حالانکہ اس موقع پر بہت سے ایسے افراد موجود تھے جنہوں نے مدینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے موزے کاٹنے کا حکم نہیں سنا تھا۔
اگر کاٹنا ضروری ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ضرور وضاحت فرما دیتے۔ (فتاوي اسلاميه: 311/2 مطبوعه دار السلام)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2932]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 316
حالت احرام میں ممنوع کام
«. . . 284- وبه: أنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يلبس المحرم ثوبا مصبوغا بزعفران أو ورس وقال: من لم يجد نعلين فليلبس خفين، وليقطعهما أسفل من الكعبين. . . .»
. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام پہننے والے کو ایسا کپڑا پہننے سے منع فرمایا ہے جسے زعفران یا (خوش بودار بوٹی) ورس سے رنگا گیا ہو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس کھلے جوتے (چپل) نہ ہوں تو وہ موزے (اور بوٹ) پہن لے اور انہیں ٹخنون سے نیچے کاٹ دے . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 316]
تخریج الحدیث: [وأخرجه البخاري 5852، ومسلم 3/1177، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ حالتِ احرام میں خوشبودار کپڑا پہننا ممنوع ہے اور خوشبو لگانا بھی جائز نہیں ہے۔
➋ حالت احرام میں جوتوں کے بجائے کھلے چپل پہننے چاہئیں۔
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 284]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2681
موزوں کو کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کرنے کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: جب محرم جوتے نہ پائے تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کر لے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2681]
اردو حاشہ:
تفصیل کے لیے دیکھیے، حدیث: 2672۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2681]

Sunan Ibn Majah Hadith 2932 in Urdu