🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب : من استلم الركن بمحجنه
باب: چھڑی سے حجر اسود کے استلام (چھونے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2947
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، قَالَتْ:" لَمَّا اطْمَأَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، طَافَ عَلَى بَعِيرهُ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ بِيَدِهِ، ثُمَّ دَخَلَ الْكَعْبَةَ فَوَجَدَ فِيهَا حَمَامَةَ عَيْدَانٍ فَكَسَرَهَا، ثُمَّ قَامَ عَلَى بَاب: الْكَعْبَةِ فَرَمَى بِهَا، وَأَنَا أَنْظُرُهُ".
صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب فتح مکہ کے سال اطمینان ہوا تو آپ نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، آپ حجر اسود کا استلام ایک لکڑی سے کر رہے تھے جو آپ کے ہاتھ میں تھی، پھر کعبہ میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ اس میں لکڑی کی بنی ہوئی کبوتر کی مورت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے توڑ دیا، پھر کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور اسے پھینک دیا، اس وقت میں آپ کو دیکھ رہی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2947]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 49 (1878)، (تحفة الأشراف: 15909) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 1641)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥صفية بنت شيبة القرشيةلها رؤية
👤←👥عبيد الله بن عبد الله القرشي
Newعبيد الله بن عبد الله القرشي ← صفية بنت شيبة القرشية
ثقة
👤←👥محمد بن جعفرالأسدي
Newمحمد بن جعفرالأسدي ← عبيد الله بن عبد الله القرشي
ثقة
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← محمد بن جعفرالأسدي
صدوق مدلس
👤←👥يونس بن بكير الشيباني، أبو بكر، أبو بكير
Newيونس بن بكير الشيباني ← ابن إسحاق القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← يونس بن بكير الشيباني
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1878
طاف على بعير يستلم الركن بمحجن في يده قالت وأنا أنظر إليه
سنن ابن ماجه
2947
طاف على بعيره يستلم الركن بمحجن بيده دخل الكعبة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2947 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2947
اردو حاشہ:
فوائدومسائل:

(1)
سواری پر سوار ہو کر طواف کرنا درست ہے لہٰذااگر کوئی شخص کسی عذر کی وجہ سے ڈولی پر یا پہیوں والی کرسی پر طواف کرے تو طواف درست ہے۔

(2)
طواف کے دوران میں اگر حجر اسود کو ہاتھ لگانا مشکل ہو تو چھڑی وغیرہ لگا کر اسے بوسہ دے دیا جائے تو درست ہے۔
ورنہ اشارہ کرلینا کافی ہے۔

(3)
محجن اس عصا یا چھڑی کو کہتے ہیں جس کا ایک سرا مڑا ہوا ہوتا ہے۔

(4)
جاندار چیز کا بت توڑ کر پھینک دینا چاہیے اور تصویر مٹا دینی چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کی دیواروں پر نقش تصاویر کو مٹانے کا حکم دیا تھا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2947]