🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. باب : التمتع بالعمرة إلى الحج
باب: حج تمتع کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2978
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ يَزِيدَ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَخِيهِ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ " إِنِّي أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ بَعْدَ الْيَوْمِ، اعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ اعْتَمَرَ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِهِ فِي الْعَشْرِ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَنْزِلْ نَسْخُهُ"، قَالَ فِي ذَلِكَ: بَعْدُ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ أَنْ يَقُولَ.
مطرف بن عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا: میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں، ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے آج کے بعد فائدہ پہنچائے، جان لو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں میں سے ایک جماعت نے ذی الحجہ کے دس دنوں میں عمرہ کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منع نہیں کیا، اور نہ قرآن مجید میں اس کا نسخ اترا، اس کے بعد ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2978]
حضرت مطرف بن عبد اللہ بن شخیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تجھے ایک حدیث سناتا ہوں شاید آج کے بعد (آئندہ زندگی میں) اللہ اس سے تجھے فائدہ دے۔ یاد رکھو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے چند افراد نے ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں عمرہ کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں کیا اور نہ اس کے منسوخ ہونے کا حکم نازل ہوا، اس کے بعد ایک آدمی نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2978]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 23 (1226)، (تحفة الأشراف: 10856)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 36 (1571)، تفسیر البقرة 33 (4518)، سنن النسائی/الحج 49 (2728)، مسند احمد (4/427، 428، 429، 434، 436، 438)، سنن الدارمی/النسک 18 (1855) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اور سنن ترمذی میں ہے کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے تمتع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ درست ہے، اس شخص نے کہا: آپ کے والد تو اس سے منع کرتے تھے، انہوں نے کہا: اگر میرے والد ایک بات سے منع کریں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کیا ہو تو میرے والد کی پیروی کی جائے گی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی؟ اس شخص نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو تمتع کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيدصحابي
👤←👥مطرف بن عبد الله الحرشي، أبو عبد الله
Newمطرف بن عبد الله الحرشي ← عمران بن حصين الأزدي
ثقة
👤←👥يزيد بن عبد الله العامري، أبو العلاء
Newيزيد بن عبد الله العامري ← مطرف بن عبد الله الحرشي
ثقة
👤←👥سعيد بن إياس الجريري، أبو مسعود
Newسعيد بن إياس الجريري ← يزيد بن عبد الله العامري
ثقة
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← سعيد بن إياس الجريري
ثقة ثبت
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
2972
أعمر طائفة من أهله في العشر فلم تنزل آية تنسخ ذلك ولم ينه عنه
سنن ابن ماجه
2978
اعتمر طائفة من أهله في العشر من ذي الحجة ولم ينه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2978 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2978
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  شاید آئندہ زندگی میں فائدہ ہو۔
یہ اس لیے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حج تمتع پسند نہیں کرتے اس لیے ابھی مناسب نہیں کہ ان کی مخالفت کی جائے کیونکہ حج قران بھی جائز ہے البتہ بعد میں آپ حج تمتع کریں اور دوسروں کو بھی مسئلہ بتائیں کہ یہ جائز ہے۔

(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے افراد سے مراد ازواج مطہرات رضی اللہ عنہ ہیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
جب ہم لوگ (مکہ)
آئے ہم نے کعبہ کا طواف کیا (اور سعی کی)
تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جو شخص قربانی لیکر نہیں آیا وہ احرام کھول دے۔
تو جو لوگ قربانی نہیں لائے تھے انھوں نے احرام کھول دیا۔ (صحيح البخاري، الحج، باب التمتع والقران والافراد بالحج۔
۔
۔
۔
۔
، حديث: 1561)
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا اور ان کے شوہر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے بھی حج تمتع کیا تھا۔ (صحيح البخاري، العمرة، باب متي يحل المعتمر، حديث: 794)

(3)
حج تمتع سے اجتناب کا فتوی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا تھا۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا بھی یہی موقف تھا۔ (صحيح مسلم، الحج، باب في المتعة بالحج، حديث: 1217)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایک روایت ہے کہ وہ منع کرتے تھے۔ (موطأ إمام مالك، الحج، باب القران في الحج: 1/ 203)
لیکن یہ حدیث ضعیف ہے۔
حج قران یا تمتع کو ناجائز نہیں سمجھتے تھے۔
بلکہ وہ کہتے تھے کہ عمرے کے لیے الگ سفر ہونا چاہیے تاکہ ایسا نہ ہوکہ سب لوگ حج کے ساتھ عمرہ کرکے چلے جائیں اور سال کے باقی حصے میں کعبہ شریف کی رونق قائم نہ رہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2978]

Sunan Ibn Majah Hadith 2978 in Urdu