🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. باب : العمرة في رجب
باب: ماہ رجب میں عمرہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2998
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ : فِي أَيِّ شَهْرٍ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: فِي رَجَبٍ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ :" مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ قَطُّ، وَمَا اعْتَمَرَ إِلَّا وَهُوَ مَعَهُ" تَعْنِي: ابْنَ عُمَرَ.
عروہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس مہینہ میں عمرہ کیا؟ تو انہوں نے کہا: رجب میں، اس پر ام المؤمنین عائشہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی رجب میں عمرہ نہیں کیا، اور آپ کا کوئی عمرہ ایسا نہیں جس میں وہ یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما آپ کے ساتھ نہ رہے ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2998]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث ابن عمر أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 35 (1255)، سنن الترمذی/الحج 93 (936)، (تحفة الأشراف: 7321)، حدیث عائشہ أخرجہ: سنن الترمذی/ الحج 93 (936)، (تحفة الأشراف: 17373)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العمرة 3 (1777)، سنن ابی داود/الحج 80 (1994)، مسند احمد (1/246) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی وہ بھول گئے ہیں اور غلطی سے رجب کہہ دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمر العدوي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
صحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة فقيه مشهور
👤←👥حبيب بن أبي ثابت الأسدي، أبو يحيى
Newحبيب بن أبي ثابت الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة فقيه جليل
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← حبيب بن أبي ثابت الأسدي
ثقة حافظ
👤←👥أبو بكر بن عياش الأسدي، أبو بكر
Newأبو بكر بن عياش الأسدي ← سليمان بن مهران الأعمش
صدوق حسن الحديث
👤←👥يحيى بن آدم الأموي، أبو زكريا
Newيحيى بن آدم الأموي ← أبو بكر بن عياش الأسدي
ثقة حافظ فاضل
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← يحيى بن آدم الأموي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
3037
ما اعتمر رسول الله إلا وهو معه وما اعتمر في رجب قط
صحيح مسلم
3036
ما اعتمر في رجب ما اعتمر من عمرة إلا وإنه لمعه
سنن ابن ماجه
2998
ما اعتمر رسول الله في رجب قط ما اعتمر إلا وهو معه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2998 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2998
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اس معاملے میں بھول ہو گئی اس لیے انھوں نے یہ بات یقین کے انداز سے بیان نہیں فرمائی۔
مذکورہ بالا سوال خود حضرت عروہ ؒ ؓنے کیا تھا جب کہ حضرت عروہ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ دونوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے حجرے کے قریب تشریف فرما تھے اور ام المومنین نے ان کا سوال اور جواب سنا۔
اس پر عروہ ؓ نے ام المومنین ؓ سے تصدیق چاہی تو انھوں نے حجرے کے اندر سےمذکورہ بالا جواب سنا۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ام المومنین کی یہ بات سن کر خاموش رہے نہ انکار کیا نہ اقرار۔ (صحيح مسلم، الحج، باب بيان عدد عمر النبي صلی اللہ علیہ وسلم وزمانهن، حديث: 1253)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2998]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3036
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں، میں اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرہ سے ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے تھے، اور ہم ان (عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کے مسواک کرنے کی آواز سن رہے تھے، وہ مسواک کر رہی تھیں، میں نے پوچھا، اے ابو عبدالرحمٰن! کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رجب میں عمرہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا، ہاں۔ تو میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو آواز دی، اے امی جان! جو کچھ ابو عبدالرحمٰن کہہ رہے ہیں، کیا وہ آپ سن... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:3036]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے ہیں،
پہلا عمرہ 6 ہجری میں صلح حدیبیہ کے سال ذوالقعدہ میں جومحض اجروثواب کے لحاظ سے ہواعملا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھیوں سمیت روک دیا گیا دوسرا اگلے سال 7 ہجری ذوالقعدہ میں جو قضا (صلح)
کے نتیجہ میں ہوا۔
اس لیے عمرہ القضاء کہلایا تیسرا سن 8 ہجری میں فتح مکہ کے بعد جعرانہ سے کیا،
اورچوتھے عمرہ کا احرام،
حج کےساتھ ذوالقعدہ میں باندھا اگرچہ ادا ذوالحجہ میں کیا گیا،
اور ان سب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شریک تھے لیکن ایک عمرہ کو رجب میں قرار دیا،
جس سے معلوم ہوتا ہے بسا اوقات انسان ایک واقعہ میں شریک ہوتا ہے لیکن اس کے وقت ماہ یا سال کو بھول جاتا ہے اس لیے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خاموشی اختیار کر لی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3036]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3037
مجاہد بیان کرتے ہیں، میں اور عروہ بن زبیر مسجد میں داخل ہوئے، دیکھا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرہ کے پاس تشریف فرما ہیں، اور لوگ مسجد میں چاشت کی نماز پڑھ رہے ہیں، تو ہم نے ان (ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے ان کی نماز کے بارے میں پوچھا؟ انہوں نے جواب دیا، بدعت ہے، عروہ نے ان سے پوچھا، اے ابو عبدالرحمٰن! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کیے تھے؟ انہوں نے جواب دیا، چار، ان میں سے ایک رجب میں کیا... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:3037]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
لوگ اجتماعی طور پر مسجد میں چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے اس مخصوص صورت کو کہ لوگ مسجد میں جمع ہو کر نمازچاشت ادا کریں،
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بدعت قرار دیا،
جس سے معلوم ہوا صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کسی عبادت کے لیے اپنی طرف سے مخصوص شکل بنا لینے کو بھی بدعت قرار دیتے تھے گویا کہ یہ بدعت اصلی اور ذاتی نہیں تھی۔
بلکہ بدعت وصفی تھی جو اپنے اصل اورذات کے اعتبار سے تو ثابت ہوتی ہے لیکن مخصوص ہئیت اور کیفیت اپنی طرف سے وضع کرلی جاتی ہے وگرنہ چاشت کی نماز تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھنا ثابت ہے،
جیسا کہ چاشت کی نماز کی بحث میں گزر چکا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3037]