سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب : ما جاء في البول قائما
باب: کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 306
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے کوڑا خانہ پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 306]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی قوم کی کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ پہنچے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔“ امام شعبہ کے استاد عاصم بیان کرتے ہیں کہ ”اعمش اس حدیث کو ابو وائل کے واسطے سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، ان سے بھول ہوگئی ہے (کہ اصل میں یہ حدیث مغیرہ بن شعبہ کی ہے، اعمش نے غلطی سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا نام لے دیا ہے)۔“ امام شعبہ کہتے ہیں کہ ”میں نے منصور سے پوچھا تو انہوں نے مجھے ابو وائل کے واسطے سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی قوم کی کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ پہنچے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 306]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11502، ومصباح الزجاجة: 123)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/246)، سنن الدارمی/الطہارة 9 (695)، وانظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
306
| أتى سباطة قوم فبال قائما |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 306 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث306
اردو حاشہ:
سند کا اختلاف اما م ابن ماجہ رحمہ اللہ نے خود واضح کردیا ہے جس سے واضح ہے کہ اس اختلاف کا حدیث کی صحت پر اثر نہیں پڑتا۔
چونکہ حضرت حذیفہ ؓ اور حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ دونوں صحابی ہیں اس لیے ان دونوں میں سے جس نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہو حدیث صحیح ہوگی، ضعیف نہیں ہوگی۔
بنابریں سنداً حدیث صحیح ہے۔
سند کا اختلاف اما م ابن ماجہ رحمہ اللہ نے خود واضح کردیا ہے جس سے واضح ہے کہ اس اختلاف کا حدیث کی صحت پر اثر نہیں پڑتا۔
چونکہ حضرت حذیفہ ؓ اور حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ دونوں صحابی ہیں اس لیے ان دونوں میں سے جس نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہو حدیث صحیح ہوگی، ضعیف نہیں ہوگی۔
بنابریں سنداً حدیث صحیح ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 306]
حدیث نمبر: 306M
قَالَ شُعْبَةُ: قَالَ عَاصِمٌ يَوْمَئِذٍ: وَهَذَا الْأَعْمَشُ يَرْوِيهِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ وَمَا حَفِظَهُ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ مَنْصُورًا ؟ فَحَدَّثَنِيهِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا".
شعبہ نے کہا کہ عاصم نے اپنی روایت میں «يومئذ» کے لفظ کا اضافہ کیا ہے، اور یوں کہا ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے کوڑا خانہ پر آئے، اور کھڑے ہو کر اس دن پیشاب کیا۔ اور یہ اعمش اس حدیث کو «عن أبي وائل عن حذيفة» کے طریق سے روایت کرتے ہیں وہ «يومئذ» کو ذکر نہیں کرتے تو میں نے منصور سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے مجھ سے «عن أبي وائل عن حذيفة» کے طریق سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے کوڑا خانہ پر آئے، اور آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 306M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 305 (تحفة الأشراف: 11502، ومصباح الزجاجة: 123)»
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت کریمہ یہی تھی آپ اکثر بیٹھ کر پیشاب کرتے تھے، گذشتہ باب میں حذیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں جس کا ذکر ہے اس کی بہت سی تو جیہات علماء کرام نے کی ہیں، جو اکثر تکلف سے خالی نہیں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان جواز، یا ضرورت شدیدہ کے سبب ایسا کیا، ورنہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنا منع ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا انکار ان کے علم کی بنیاد پر ہے، وہ معمول بتا رہی ہیں، اور حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنا مشاہدہ بتایا، جو ایک بار کا واقعہ ہے، جو جواز کی دلیل ہے۔
الرواة الحديث:
Sunan Ibn Majah Hadith 306 in Urdu
شقيق بن سلمة الأسدي ← المغيرة بن شعبة الثقفي