🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب : من ضحى بشاة عن أهله
باب: سارے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3147
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيَّادٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ : كَيْفَ كَانَتِ الضَّحَايَا فِيكُمْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ:" كَانَ الرَّجُلُ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِالشَّاةِ عَنْهُ، وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، فَيَأْكُلُونَ وَيُطْعِمُونَ ثُمَّ تَبَاهَى النَّاسُ فَصَارَ كَمَا تَرَى".
عطا بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ لوگوں کی قربانیاں کیسی ہوتی تھیں؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آدمی اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قربانی کرتا تھا تو اسے سارے گھر والے کھاتے اور لوگوں کو کھلاتے، پھر لوگ فخر و مباہات کرنے لگے، تو معاملہ ایسا ہو گیا جو تم دیکھ رہے ہو۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3147]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأضاحي 10 (1505)، (تحفة الأشراف: 3481) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو أيوب الأنصاري، أبو أيوبصحابي
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد
Newعطاء بن يسار الهلالي ← أبو أيوب الأنصاري
ثقة
👤←👥عمارة بن عبد الله الأنصاري، أبو أيوب
Newعمارة بن عبد الله الأنصاري ← عطاء بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥الضحاك بن عثمان الحزامي، أبو عثمان
Newالضحاك بن عثمان الحزامي ← عمارة بن عبد الله الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن أبي فديك الديلي، أبو إسماعيل
Newمحمد بن أبي فديك الديلي ← الضحاك بن عثمان الحزامي
صدوق حسن الحديث
👤←👥دحيم القرشي، أبو سعيد
Newدحيم القرشي ← محمد بن أبي فديك الديلي
ثقة حافظ متقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1505
يضحي بالشاة عنه وعن أهل بيته فيأكلون ويطعمون حتى تباهى الناس فصارت كما ترى
سنن ابن ماجه
3147
يضحي بالشاة عنه وعن أهل بيته فيأكلون ويطعمون ثم تباهى الناس فصار كما ترى
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3147 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3147
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جن لوگوں کا کھانا پینا اور خرچ وغیرہ مشترک ہو وہ ایک گھر کے افراد ہیں۔
ان کی طرف سے ایک ہی قربانی دینا یا گائے یا اونٹ کا ایک حصہ قربانی دینا کافی ہے۔

(2)
ایک سے زیادہ قربانیاں کرنا جائز ہیں لیکن تفاخر اور مقابلہ بازی کے انداز سےزیادہ جانور یا قیمتی جانور قربان کرنا قربانی کے اصل مقصد کو ختم کردیتا ہے اس صورت میں کوئی ثواب نہیں ہوتا۔

(3)
کسی بھی نیکی میں نیت کا صحیح ہونا اور دل کا خلوص لازمی شرط ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3147]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1505
ایک بکری کی قربانی گھر کے سارے افراد کی طرف سے کافی ہے۔
عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ابوایوب انصاری رضی الله عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانیاں کیسے ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: ایک آدمی اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قربانی کرتا تھا، وہ لوگ خود کھاتے تھے اور دوسروں کو کھلاتے تھے یہاں تک کہ لوگ (کثرت قربانی پر) فخر کرنے لگے، اور اب یہ صورت حال ہو گئی جو دیکھ رہے ہو ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى/حدیث: 1505]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی لوگ قربانی کرنے میں فخر ومباہات سے کام لینے لگے ہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1505]