🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب : النهي عن ذبح الأضحية قبل الصلاة
باب: نماز عید سے پہلے قربانی کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3154
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ غَيْرُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَارٍ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ فَوَجَدَ رِيحَ قُتَارٍ، فَقَالَ:" مَنْ هَذَا الَّذِي ذَبَحَ؟"، فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَّا، فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ، لِأُطْعِمَ أَهْلِي وَجِيرَانِي، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ، فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، مَا عِنْدِي إِلَّا جَذَعٌ أَوْ حَمَلٌ مِنَ الضَّأْنِ، قَالَ:" اذْبَحْهَا وَلَنْ تُجْزِئَ جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ".
ابوزید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر انصار کے گھروں میں سے ایک گھر سے ہوا، تو آپ نے وہاں گوشت بھوننے کی خوشبو پائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس شخص نے ذبح کیا ہے؟ ہم میں سے ایک شخص آپ کی طرف نکلا، اور آ کر اس نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! میں نے نماز عید سے پہلے ذبح کر لیا، تاکہ گھر والوں اور پڑوسیوں کو کھلا سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ قربانی کا حکم دیا، اس شخص نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، میرے پاس ایک جذعہ یا بھیڑ کے بچہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی کو ذبح کر لو اور تمہارے بعد کسی کے لیے جذعہ کافی نہیں ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3154]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10699، ومصباح الزجاجة: 1092)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/77، 340، 341) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمرو بن أخطب الأنصاري، أبو زيدصحابي
👤←👥عمرو بن بجدان العامري
Newعمرو بن بجدان العامري ← عمرو بن أخطب الأنصاري
مجهول الحال
👤←👥عبد الله بن زيد الجرمي، أبو كلابة، أبو قلابة
Newعبد الله بن زيد الجرمي ← عمرو بن بجدان العامري
ثقة
👤←👥خالد الحذاء، أبو المنازل، أبو عبد الله
Newخالد الحذاء ← عبد الله بن زيد الجرمي
ثقة
👤←👥عبد الوارث بن سعيد العنبري، أبو عبيدة
Newعبد الوارث بن سعيد العنبري ← خالد الحذاء
ثقة ثبت
👤←👥عبد الصمد بن عبد الوارث التميمي، أبو سهل
Newعبد الصمد بن عبد الوارث التميمي ← عبد الوارث بن سعيد العنبري
ثقة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← عبد الصمد بن عبد الوارث التميمي
ثقة ثبت
👤←👥عمرو بن أخطب الأنصاري، أبو زيد
Newعمرو بن أخطب الأنصاري ← محمد بن المثنى العنزي
صحابي
👤←👥عبد الله بن زيد الجرمي، أبو كلابة، أبو قلابة
Newعبد الله بن زيد الجرمي ← عمرو بن أخطب الأنصاري
ثقة
👤←👥خالد الحذاء، أبو المنازل، أبو عبد الله
Newخالد الحذاء ← عبد الله بن زيد الجرمي
ثقة
👤←👥عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي، أبو محمد
Newعبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي ← خالد الحذاء
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3154
ما عندي إلا جذع أو حمل من الضأن قال اذبحها ولن تجزئ جذعة عن أحد بعدك
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3154 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3154
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  مذکورہ روایت کو شیخ البانی ؒ نے مطلق صحیح اور شیخ زبیر رضی اللہ عنہ نے بھی مطلق سنداً حسن کہا ہے۔
لیکن درست بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس روایت میں (اوحمل من الضان)
کے الفاظ صحیح نہیں ہیں کیونکہ صحیح بخاری وغیرہ میں مذکورہ جملے کی بجائے (من المعز)
کے الفاظ ہیں۔
علاوہ ازیں مسند احمد کے محققین نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے (الموسوعة الحديثية مسندالإمام أحمد: 34/ 334)
لہٰذا بھیڑ کا جذعه (ایک سال دنبہ، چھترا)
مطلق جائز ہے جیسا کہ حدیث ہے:
(ان الجذع يوفي مما توفي منه الثنية) (سنن ابن ماجة الأضاحي، باب مايجزي من الاضاحي، حديث: 3140)
جذعہ جانور دو دانتے کی جگہ کفایت کرجاتا ہے۔
تاہم افضلیت دو دانتا جانور قربانی کرنے میں ہے جیسا کہ تفصیل حدیث نمبر: 3140 کے فوائد میں گزرچکی ہے۔
نیز جذعہ (ایک سالہ دنبہ چھترا)
صرف بھیڑ کی قسم سے جائز ہے بکری کا جذعہ (ایک سالہ)
جائز نہیں۔
واللہ اعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3154]