پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب : النهي عن صبر البهائم وعن المثلة
باب: جانور کو باندھ کر نشانہ لگانے اور مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3188
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يُقْتَلَ شَيْءٌ مِنَ الدَّوَابِّ صَبْرًا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جانور کو باندھ کر تیر مارنے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3188]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کسی جانور کو باندھ کر قتل کیا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3188]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصید 12 (1959)، (تحفة الأشراف: 2831)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/318، 339، 5/422، 423) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جب جانور کو باندھ کر اس طرح سے مارنا منع ہوا تو انسان کو اس طرح سے مارنا بطریق اولیٰ حرام ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري | صدوق إلا أنه يدلس | |
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد ابن جريج المكي ← محمد بن مسلم القرشي | ثقة | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← ابن جريج المكي | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد هشام بن عمار السلمي ← سفيان بن عيينة الهلالي | صدوق جهمي كبر فصار يتلقن |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5063
| يقتل شيء من الدواب صبرا |
سنن ابن ماجه |
3188
| أن يقتل شيء من الدواب صبرا |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3188 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3188
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
اس کا مفہوم بھی مذکورہ بالا حدیث کے مطابق ہے۔
ذبح کرنے کے لیے اس کی ٹانگیں باندھنا تاکہ بے قابو نہ ہوجائے، اس ممانعت میں شامل نہیں۔
فوائد و مسائل:
اس کا مفہوم بھی مذکورہ بالا حدیث کے مطابق ہے۔
ذبح کرنے کے لیے اس کی ٹانگیں باندھنا تاکہ بے قابو نہ ہوجائے، اس ممانعت میں شامل نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3188]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5063
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے، حضرت عبداللہ بن جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما کی روایت بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جانور کو باندھ کر قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5063]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ ہر چیز کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور جانور کو باندھ کر نشانہ بنانا،
اس کے لیے تکلیف اور اذیت کا باعث ہے،
اس لیے آپ نے اس کو باندھ کر تختہ مشق بنانے سے منع فرمایا ہے اور یہ حرکت کرنے والے پر لعنت بھیجی ہے،
کیونکہ جانور کو ذبح کرنے کا حکم ہے،
اس طرح ہدف بنا کر اس کو پھینک دینا اس کا ضیاع ہے،
اس طرح یہ دوہرا جرم ہے۔
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ ہر چیز کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور جانور کو باندھ کر نشانہ بنانا،
اس کے لیے تکلیف اور اذیت کا باعث ہے،
اس لیے آپ نے اس کو باندھ کر تختہ مشق بنانے سے منع فرمایا ہے اور یہ حرکت کرنے والے پر لعنت بھیجی ہے،
کیونکہ جانور کو ذبح کرنے کا حکم ہے،
اس طرح ہدف بنا کر اس کو پھینک دینا اس کا ضیاع ہے،
اس طرح یہ دوہرا جرم ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5063]
Sunan Ibn Majah Hadith 3188 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري