سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب : طعام الواحد يكفي الاثنين
باب: ایک شخص کا کھانا دو کے لیے کافی ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 3254
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زِيَادٍ الْأَسَدِيُّ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنْبَأَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ، وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ، وَطَعَامُ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص کا کھانا دو کے لیے کافی ہوتا ہے اور دو کا کھانا چار کے لیے کافی ہوتا ہے، اور چار کا کھانا آٹھ افراد کے لیے کافی ہوتا ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3254]
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی کا کھانا دو کے لیے کافی ہوتا ہے۔ دو آدمیوں کا کھانا چار افراد کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اور چار افراد کا کھانا آٹھ افراد کے لیے کافی ہوتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3254]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأشربة 33 (2059)، (تحفة الأشراف: 2828)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة 21 (1820)، مسند احمد (2/407، 3/301، 305، 382)، سنن الدارمی/الأطعمة 14، 2087) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جب ایک آدمی پیٹ بھر کھاتا ہو، تو وہ دو آدمیوں کو کافی ہو جائے گا، اس پر گزارہ کر سکتے ہیں گو خوب آسودہ نہ ہوں، بعضوں نے کہا: حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب کھانے کی قلت ہو، اور مسلمان بھوکے ہوں، تو ہر ایک آدمی کو مستحب ہے کہ اپنے کھانے میں ایک اور بھائی کو شریک کرے، اس صورت میں دونوں زندہ رہ سکتے ہیں اور کم کھانے میں فائدہ بھی ہے کہ آدمی چست چالاک رہتا ہے اور صحت عمدہ رہتی ہے، بعضوں نے کہا: مطلب یہ ہے کہ جب آدمی کے کھانے میں دو بھائی مسلمان شریک ہوں گے، اور اللہ تعالی کا نام لے کر کھائیں گے، تو وہ کھانا دونوں کو کفایت کر جائے گا، اور برکت ہوگی، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري | صدوق إلا أنه يدلس | |
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد ابن جريج المكي ← محمد بن مسلم القرشي | ثقة | |
👤←👥يحيى بن زياد الأسدي، أبو محمد يحيى بن زياد الأسدي ← ابن جريج المكي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمد بن عبد الله الرقي محمد بن عبد الله الرقي ← يحيى بن زياد الأسدي | صدوق حسن الحديث |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5371
| طعام الرجل يكفي رجلين وطعام رجلين يكفي أربعة وطعام أربعة يكفي ثمانية |
صحيح مسلم |
5368
| طعام الواحد يكفي الاثنين وطعام الاثنين يكفي الأربعة وطعام الأربعة يكفي الثمانية |
صحيح مسلم |
5370
| طعام الواحد يكفي الاثنين وطعام الاثنين يكفي الأربعة |
جامع الترمذي |
1820
| طعام الواحد يكفي الاثنين وطعام الاثنين يكفي الأربعة وطعام الأربعة يكفي الثمانية |
سنن ابن ماجه |
3254
| طعام الواحد يكفي الاثنين وطعام الاثنين يكفي الأربعة وطعام الأربعة يكفي الثمانية |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3254 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3254
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اگر کھانا کم ہو تو مسلمان کوچاہیے کہ دوسرے ساتھیوں کا خیال رکھ کر کھائے۔
(2)
مل کر کھانا کھانے سے تھوڑا زیادہ افراد کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور کھانے میں برکت ہوتی ہے۔
(3)
باہمی ہمدردی اور خیر خواہی مسلمانوں کی امتیازی خوبی ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
اگر کھانا کم ہو تو مسلمان کوچاہیے کہ دوسرے ساتھیوں کا خیال رکھ کر کھائے۔
(2)
مل کر کھانا کھانے سے تھوڑا زیادہ افراد کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور کھانے میں برکت ہوتی ہے۔
(3)
باہمی ہمدردی اور خیر خواہی مسلمانوں کی امتیازی خوبی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3254]
Sunan Ibn Majah Hadith 3254 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري