سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب : الأكل مما يليك
باب: (برتن میں اور دستر خوان پر) اپنے قریب سے کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3274
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي السَّوِيَّةِ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِكْرَاشٍ ، عَنْ أَبِيهِ عِكْرَاشِ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَفْنَةٍ كَثِيرَةِ الثَّرِيدِ وَالْوَدَكِ , فَأَقْبَلْنَا نَأْكُلُ مِنْهَا، فَخَبَطْتُ يَدِي فِي نَوَاحِيهَا، فَقَالَ:" يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ مَوْضِعٍ وَاحِدٍ، فَإِنَّهُ طَعَامٌ وَاحِدٌ"، ثُمَّ أُتِينَا بِطَبَقٍ فِيهِ أَلْوَانٌ مِنَ الرُّطَبِ، فَجَالَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّبَقِ، وَقَالَ:" يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ، فَإِنَّهُ غَيْرُ لَوْنٍ وَاحِدٍ".
عکراش بن ذویب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک لگن لایا گیا جس میں بہت سا ثرید اور روغن تھا، ہم سب اس میں سے کھانے لگے، میں اپنا ہاتھ پیالے میں ہر طرف پھرا رہا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکراش! ایک جگہ سے کھاؤ، اس لیے کہ یہ پورا ایک ہی کھانا ہے“، پھر ایک طبق لایا گیا جس میں مختلف اقسام کی تازہ کھجوریں تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ طبق میں چاروں طرف گھومنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکراش! جہاں سے جی چاہے کھاؤ، اس لیے کہ اس میں کئی طرح کی کھجوریں ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3274]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأطعمة 41 (1848)، (تحفة الأشراف: 10016) (ضعیف)» (علاء بن فضل ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 5098)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1848)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493
إسناده ضعيف
ترمذي (1848)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عكراش بن ذؤيب التميمي، أبو الصهباء | صحابي | |
👤←👥عبيد الله بن عكراش التميمي عبيد الله بن عكراش التميمي ← عكراش بن ذؤيب التميمي | ضعيف الحديث | |
👤←👥العلاء بن الفضل المنقري، أبو الهذيل العلاء بن الفضل المنقري ← عبيد الله بن عكراش التميمي | ضعيف الحديث | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← العلاء بن الفضل المنقري | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1848
| كل من موضع واحد فإنه طعام واحد ثم أتينا بطبق فيه ألوان الرطب أو من ألوان الرطب عبيد الله شك قال فجعلت آكل من بين يدي وجالت يد رسول الله في الطبق وقال يا عكراش كل من حيث شئت فإنه غير لون واحد ثم أتينا بماء فغسل رسول الله صلى الله عليه |
سنن ابن ماجه |
3274
| كل من موضع واحد فإنه طعام واحد ثم أتينا بطبق فيه ألوان من الرطب فجالت يد رسول الله في الطبق وقال يا عكراش كل من حيث شئت فإنه غير لون واحد |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3274 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3274
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ باب میں دونوں روایات ضعیف ہیں تاہم صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن ابوسلمہ سے فرمایا:
بچے! اللہ کا نام لو۔
دائیں ہاتھ سے کھاؤ اوراپنے قریب سے کھاؤ۔ (صحيح البخارى، الأطعمة، حديث: 5372، وصحيح مسلم، الأشربة، حديث: 2022)
لہٰذا جب برتن میں ایک قسم کا کھانا ہو تو ہر ایک کو اپنے سامنے ہی سے کھانا چاہیے البتہ اگر مختلف قسم کی چیزیں ہوں تواپنی پسند کی چیز دوسری طرف سے بھی لی جاسکتی ہے۔
واللہ أعلم مزید دیکھیے حدیث: 3267کے فوائد ومسائل۔
فوائد و مسائل:
مذکورہ باب میں دونوں روایات ضعیف ہیں تاہم صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن ابوسلمہ سے فرمایا:
بچے! اللہ کا نام لو۔
دائیں ہاتھ سے کھاؤ اوراپنے قریب سے کھاؤ۔ (صحيح البخارى، الأطعمة، حديث: 5372، وصحيح مسلم، الأشربة، حديث: 2022)
لہٰذا جب برتن میں ایک قسم کا کھانا ہو تو ہر ایک کو اپنے سامنے ہی سے کھانا چاہیے البتہ اگر مختلف قسم کی چیزیں ہوں تواپنی پسند کی چیز دوسری طرف سے بھی لی جاسکتی ہے۔
واللہ أعلم مزید دیکھیے حدیث: 3267کے فوائد ومسائل۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3274]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1848
کھانا پر ”بسم اللہ“ پڑھنے کا بیان۔
عکراش بن ذؤیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنو مرہ بن عبید نے اپنی زکاۃ کا مال دے کر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، میں آپ کے پاس مدینہ آیا تو آپ کو مہاجرین اور انصار کے بیچ بیٹھا پایا، پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر لے گئے اور پوچھا: ”کھانے کے لیے کچھ ہے؟“ چنانچہ ایک پیالہ لایا گیا جس میں زیادہ ثرید (شوربا میں ترکی ہوئی روٹی) اور بوٹیاں تھیں، ہم اسے کھانے کے لیے متوجہ ہوئے، میں پیالہ کے کناروں پر اپنا ہاتھ مارنے لگا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سامنے سے کھانے لگے، پھر آپ نے اپنے بائ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1848]
عکراش بن ذؤیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنو مرہ بن عبید نے اپنی زکاۃ کا مال دے کر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، میں آپ کے پاس مدینہ آیا تو آپ کو مہاجرین اور انصار کے بیچ بیٹھا پایا، پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر لے گئے اور پوچھا: ”کھانے کے لیے کچھ ہے؟“ چنانچہ ایک پیالہ لایا گیا جس میں زیادہ ثرید (شوربا میں ترکی ہوئی روٹی) اور بوٹیاں تھیں، ہم اسے کھانے کے لیے متوجہ ہوئے، میں پیالہ کے کناروں پر اپنا ہاتھ مارنے لگا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سامنے سے کھانے لگے، پھر آپ نے اپنے بائ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1848]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں العلاء بن فضل ضعیف راوی ہیں)
نوٹ:
(سند میں العلاء بن فضل ضعیف راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1848]
عبيد الله بن عكراش التميمي ← عكراش بن ذؤيب التميمي