سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب : ما أنزل الله داء إلا أنزل له شفاء
باب: اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جس کا علاج نہ اتارا ہو۔
حدیث نمبر: 3437
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ ابْنِ أَبِي خِزَامَةَ , عَنْ أَبِي خِزَامَةَ , قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ أَدْوِيَةً نَتَدَاوَى بِهَا , وَرُقًى نَسْتَرْقِي بِهَا , وَتُقًى نَتَّقِيهَا , هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا , قَالَ:" هِيَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ".
ابوخزامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: بتائیے ان دواؤں کے بارے میں جن سے ہم علاج کرتے ہیں، ان منتروں کے بارے میں جن سے ہم جھاڑ پھونک کرتے ہیں، اور ان بچاؤ کی چیزوں کے بارے میں جن سے ہم بچاؤ کرتے ہیں، کیا یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو کچھ بدل سکتی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ خود اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں شامل ہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3437]
حضرت ابو خزامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: ”ہم دواؤں کے ذریعے سے علاج کرتے ہیں، اور دعاؤں کے ساتھ دم کرتے ہیں، اور دفاعی اشیاء کے ذریعے سے اپنا بچاؤ کرتے ہیں، کیا یہ چیزیں اللہ کی تقدیر میں سے کسی چیز کو روک سکتی ہیں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بھی اللہ کی تقدیر میں شامل ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3437]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطب 21 (2065)، (تحفة الأشراف: 11898)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/421) (ضعیف)» (تراجع الألبانی: رقم: 345)
وضاحت: ۱؎: سبحان اللہ، کیا عمدہ جواب دیا کہ سوال کرنے والے کو اب کچھ کہنے کی گنجائش ہی نہیں رہی، مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کا یہ ہے کہ سپر یا ڈھال رکھنا یا دوا یا علاج کرنا تقدیر الہی کے خلاف نہیں ہے، جو فعل دنیا میں واقع ہو وہی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں تھا، پس انسان کے لیے ضروری ہے کہ تدبیر اور علاج میں کوتاہی نہ کرے، ہو گا تو وہی جو تقدیر میں ہے، اسی طرح جو کوئی علاج نہ کرے، تو سمجھنا چاہئے کہ اس کی تقدیر میں یہی ہے، غرض اللہ تعالی کی تقدیر بندے کو معلوم نہیں ہو سکتی جب کوئی فعل بندے سے ظاہر ہو جاتا ہے اس وقت تقدیر معلوم ہوتی ہے، حدیث میں «وتقى نتقيها» سے پرہیز مراد ہے جو بعض بیماریوں میں بعض کھانوں سے پرہیز کرتے ہیں، اور اس حدیث میں یہی معنی زیادہ مناسب ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2065)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 500
إسناده ضعيف
ترمذي (2065)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 500
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو خزامة بن يعمر السعدي، أبو خزامة | صحابي | |
👤←👥ابن أبي خزامة السعدي، أبو خزامة ابن أبي خزامة السعدي ← أبو خزامة بن يعمر السعدي | مجهول | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← ابن أبي خزامة السعدي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥محمد بن الصباح الجرجرائي، أبو جعفر محمد بن الصباح الجرجرائي ← سفيان بن عيينة الهلالي | صدوق حسن الحديث |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2148
| أرأيت رقى نسترقيها ودواء نتداوى به وتقاة نتقيها هل ترد من قدر الله شيئا قال هي من قدر الله |
جامع الترمذي |
2065
| أرأيت رقى نسترقيها ودواء نتداوى به وتقاة نتقيها هل ترد من قدر الله شيئا قال هي من قدر الله |
سنن ابن ماجه |
3437
| أرأيت أدوية نتداوى بها ورقى نسترقي بها وتقى نتقيها هل ترد من قدر الله شيئا قال هي من قدر الله |
مشكوة المصابيح |
97
| سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله ارايت رقى نسترقيها ودواء نتداوى به وتقاة نتقيها هل ترد من قدر الله شيئا قال: هي من قدر الله |
Sunan Ibn Majah Hadith 3437 in Urdu
ابن أبي خزامة السعدي ← أبو خزامة بن يعمر السعدي