🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب : الكمأة والعجوة
باب: کھمبی اور عجوہ کھجور کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3456
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا الْمُشْمَعِلُّ بْنُ إِيَاسٍ الْمُزَنِيُّ , حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ , قَالَ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو الْمُزَنِيَّ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" الْعَجْوَةُ وَالصَّخْرَةُ مِنَ الْجَنَّةِ" , قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: حَفِظْتُ الصَّخْرَةَ مِنْ فِيهِ.
رافع بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: عجوہ کھجور اور صخرہ یعنی بیت المقدس کا پتھر جنت کی چیزیں ہیں۔ عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں: لفظ «صخرہ» میں نے ان کے منہ سے سن کر یاد کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3456]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3598، ومصباح الزجاجة: 1203)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/426، 5/31، 65) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (مشعمل نے کبھی «الصخرة» کہا اور کبھی «الشجرہ» اس اضطراب کی وجہ سے یہ ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥رافع بن عمرو المزنيصحابي
👤←👥عمرو بن سليم المزني
Newعمرو بن سليم المزني ← رافع بن عمرو المزني
ثقة
👤←👥المشمعل بن إياس المزني
Newالمشمعل بن إياس المزني ← عمرو بن سليم المزني
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← المشمعل بن إياس المزني
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3456
العجوة والصخرة من الجنة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3456 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3456
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً صحیح اور قابل حجت قراردیا ہے۔
اور دیگر محققین نے بھی اس کی سند کو تو صحیح قرار دیا ہے۔
البتہ متن میں اضطراب کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے کیونکہ حدیث کے راوی مشمعل روایت بیان کرتے ہوئے کبھی تو صخرہ کا لفظ بولتے ہیں اور کبھی شجرۃ کا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ راوی کو صحیح الفاظ یاد نہیں۔
اور یہ ایسا تردد اور شک ہے جو اضطراب کہلاتاہے۔
اور حدیث کےضعیف اور ناقابل حجت ہونے پر دلالت کرتاہے۔
لہٰذا مذکورہ روایت سنداً صحیح ہونے کے باوجود قابل عمل اور قابل حجت نہیں۔
تاہم عجوہ کے جنت سےہونے کا ذکردوسری صحیح احادیث سے ملتا ہے۔
مذید تفصیل کےلئے دیکھئے۔ (سنن ابن ماجة بتحقیق الدکتور بشار عواد رقم 3456 وإرواء الغلیل للأبانی رقم 2696)

(3)
بعض شارحین بیان کرتے ہیں کہ صخرہ سے مراد وہ چٹان ہے۔
جو بیت المقدس کے شہر میں مسجد اقصیٰ میں ہے آج کل اس چٹان پرایک بڑا گنبد بنا ہواہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3456]