پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب : الحجامة
باب: حجامت (پچھنا لگوانے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 3479
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ , حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ , سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي بِمَلَإٍ , إِلَّا قَالُوا: يَا مُحَمَّدُ , مُرْ أُمَّتَكَ بِالْحِجَامَةِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس رات معراج ہوئی میرا گزر فرشتوں کی جس جماعت پر ہوا اس نے کہا: ”محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنی امت کو پچھنا لگانے کا حکم دیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3479]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس رات مجھے اسراء (اور معراج) ہوئی، میں (فرشتوں کی) جس جماعت کے پاس سے گزرا، انہوں نے کہا: حضرت محمد! اپنی امت کو سینگی لگوانے کا حکم دیجیے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3479]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1448، ومصباح الزجاجة: 1211) (صحیح)» (سند میں جبارہ اور کثیر بن سلیم ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: حدیث: 3478)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
جبارة وكثير بن سليم مجروحان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502
إسناده ضعيف
جبارة وكثير بن سليم مجروحان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥كثير بن سليم الضبي، أبو هشام، أبو سلمة كثير بن سليم الضبي ← أنس بن مالك الأنصاري | منكر الحديث | |
👤←👥جبارة بن المغلس الحماني، أبو محمد جبارة بن المغلس الحماني ← كثير بن سليم الضبي | متهم بالوضع |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3479
| مر أمتك بالحجامة |
Sunan Ibn Majah Hadith 3479 in Urdu
كثير بن سليم الضبي ← أنس بن مالك الأنصاري