الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب : الحناء
باب: مہندی کا بیان۔
حدیث نمبر: 3502
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنَا فَائِدٌ مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ , حَدَّثَنِي مَوْلَايَ عُبَيْدُ اللَّهِ , حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي سَلْمَى أُمُّ رَافِعٍ مَوْلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: كَانَ لَا يُصِيبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرْحَةٌ , وَلَا شَوْكَةٌ , إِلَّا" وَضَعَ عَلَيْهِ الْحِنَّاءَ".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی سلمیٰ ام رافع رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی زخم لگتا، یا کانٹا چبھتا تو آپ اس پر مہندی لگاتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3502]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطب 3 (3858)، سنن الترمذی/الطب 13 (2054)، (تحفة الأشراف: 15893)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/462) (حسن)» (سند میں عبیداللہ لین الحدیث ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے حدیث حسن ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3858) ترمذي (2054)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 503
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3858) ترمذي (2054)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 503
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سلمى مولاة النبي، أم رافع، أم سلمى | صحابي | |
👤←👥فايد مولى عبادل فايد مولى عبادل ← سلمى مولاة النبي | ثقة | |
👤←👥زيد بن الحباب التميمي، أبو الحسين زيد بن الحباب التميمي ← فايد مولى عبادل | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← زيد بن الحباب التميمي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2054
| قرحة ولا نكبة إلا أمرني رسول الله أن أضع عليها الحناء |
سنن أبي داود |
3858
| احتجم لا وجعا في رجليه إلا قال اخضبهما |
سنن ابن ماجه |
3502
| قرحة ولا شوكة إلا وضع عليه الحناء |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3502 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3502
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ دیگر محققین نے اسے شواہد کی بنا پر حسن بھی قرار دیا ہے۔
اور تحسین حدیث والی رائے ہی درست معلوم ہوتی ہے۔
لہٰذا اگر کوئی شخص مہندی سےزخم وغیرہ کا علاج کرنا چاہتا ہے تو جائز ہے۔
واللہ اعلم۔
جیسا کہ اطباء وغیرہ میں یہ بات معروف ہے۔
کہ مہندی زخم کو ٹھنڈک پہنچا کر خشک کرتی ہے۔
اس لئے معمولی زخم کا علاج اس سے کیا جاسکتا ہے۔
(2)
ہاتھوں کی ہتھیلیوں پر مہندی لگانا عورتوں کی زینت ہے۔
اس لئے مردوں کو اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔
تاکہ عورتوں سے مشابہت نہ ہو۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ دیگر محققین نے اسے شواہد کی بنا پر حسن بھی قرار دیا ہے۔
اور تحسین حدیث والی رائے ہی درست معلوم ہوتی ہے۔
لہٰذا اگر کوئی شخص مہندی سےزخم وغیرہ کا علاج کرنا چاہتا ہے تو جائز ہے۔
واللہ اعلم۔
جیسا کہ اطباء وغیرہ میں یہ بات معروف ہے۔
کہ مہندی زخم کو ٹھنڈک پہنچا کر خشک کرتی ہے۔
اس لئے معمولی زخم کا علاج اس سے کیا جاسکتا ہے۔
(2)
ہاتھوں کی ہتھیلیوں پر مہندی لگانا عورتوں کی زینت ہے۔
اس لئے مردوں کو اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔
تاکہ عورتوں سے مشابہت نہ ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3502]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3858
سینگی (پچھنا) لگوانے کا بیان۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ سلمی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جو شخص بھی اپنے سر درد کی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا آپ اسے فرماتے: ”سینگی لگواؤ“ اور جو شخص اپنے پیروں میں درد کی شکایت لے کر آتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فرماتے: ”ان میں خضاب (مہندی) لگاؤ۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3858]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ سلمی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جو شخص بھی اپنے سر درد کی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا آپ اسے فرماتے: ”سینگی لگواؤ“ اور جو شخص اپنے پیروں میں درد کی شکایت لے کر آتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فرماتے: ”ان میں خضاب (مہندی) لگاؤ۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3858]
فوائد ومسائل:
یہ روایت سندا ضعیف ہے، تاہم مردوں کو بغرض علاج پاؤں میں مہندی لگا لینا جائز ہے۔
یہ روایت سندا ضعیف ہے، تاہم مردوں کو بغرض علاج پاؤں میں مہندی لگا لینا جائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3858]
فايد مولى عبادل ← سلمى مولاة النبي