🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب : من استرقى من العين
باب: نظر بد لگنے پر دم کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3512
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , وَمِسْعَرٍ , عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَهَا أَنْ تَسْتَرْقِيَ مِنَ الْعَيْنِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نظر بد لگ جانے پر دم کرنے کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3512]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 35 (5738)، صحیح مسلم/السلام 21 (2195)، (تحفة الأشراف: 16199)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/63، 138) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: امام شوکانی الدرر البہیۃ میں کہتے ہیں کہ جھاڑ پھونک میں کوئی حرج نہیں، نواب صدیق حسن الرروضۃ الندیۃ میں فرماتے ہیں کہ دم کرنے (جھاڑ پھونک) میں کچھ حرج نہیں اور شرعی قواعد اس سے مانع نہیں ہیں، بشرطیکہ اس میں شرک نہ ہوں، اور بالخصوص جب وہ قرآن یا حدیث سے ہو یا ان دونوں کے مشابہ اللہ تعالیٰ سے عاجزی اور گڑگڑانے والی دعائیں تو یہ جائز ہے، اور جن احادیث میں دم (جھاڑ پھونک) تعویذ اور تِوَلہ (یعنی وہ منتر جو عورت کو اس کے شوہر کے نزدیک پسندیدہ بنا دے، اور جو جادو وغیرہ کے ذریعے سے کیا جاتا ہے) سے ممانعت ہے، وہ شرک کے مضامین پر محمول ہیں یا اسباب پر زیادہ بھروسہ کرنا، اس طرح سے کہ انسان اللہ تعالیٰ سے غافل ہو جائے، اور شاہ ولی اللہ دہلوی المسوی شرح الموطأ میں فرماتے ہیں کہ جھاڑ پھونک کے بارے میں احادیث کا اختلاف ہے، ان میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہو گی کہ ان کو مختلف احوال پر محمول کیا جائے گا، تو ممنوع جھاڑ پھونک وہ ہے جس میں شرک ہے، یا جس میں بدمعاش شیطانوں کا ذکر ہوتا ہے، یا جو غیرعربی زبان میں ہوتے ہیں اور جن کا معنی معلوم نہیں ہوتا، اور شاید کہ اس میں جادو یا کفر موجود ہو، اور جو دم قرآن یا اللہ کے ذکر پر مشتمل ہو، وہ مستحب ہے۔ (الروضۃ الندیۃ ۳/۱۵۸)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الله بن شداد الليثي، أبو الوليد
Newعبد الله بن شداد الليثي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥معبد بن خالد الجدلي، أبو القاسم
Newمعبد بن خالد الجدلي ← عبد الله بن شداد الليثي
ثقة
👤←👥مسعر بن كدام العامري، أبو سلمة
Newمسعر بن كدام العامري ← معبد بن خالد الجدلي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← مسعر بن كدام العامري
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد القرشي
Newعلي بن محمد القرشي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5738
يسترقى من العين
صحيح مسلم
5720
تسترقي من العين
صحيح مسلم
5722
أسترقي من العين
سنن ابن ماجه
3512
تسترقي من العين
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3512 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3512
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
قرآن مجید کی آخری دو سورتوں کا دم نظر بد سے اور جنوں کے شر سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔

(2)
دم کرنا اور کروانا جائز ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3512]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5738
5738. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا۔۔۔۔۔ یا (کہا کہ) آپ نے حکم دیا۔۔۔ کہ نظر بد لگ جانے سے دم جھاڑ کیا جائے [صحيح بخاري، حديث نمبر:5738]
حدیث حاشیہ:
معوذتین اور سورۃ فاتحہ پڑھنا بہترین مجرب دم ہیں نیز دعاؤں میں ﴿اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ما خلق﴾ مجرب دعا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5738]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5738
5738. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا۔۔۔۔۔ یا (کہا کہ) آپ نے حکم دیا۔۔۔ کہ نظر بد لگ جانے سے دم جھاڑ کیا جائے [صحيح بخاري، حديث نمبر:5738]
حدیث حاشیہ:
نظر لگ جانا برحق ہے جیسا کہ آئندہ بیان ہو گا۔
اگر انسان کسی دوسرے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرے تو نیک خواہش کا مثبت اثر دوسرے پر ہوتا ہے، اسی طرح بری خواہش، یعنی حسد وغیرہ کے منفی اثرات بھی شدت سے دوسروں پر مرتب ہوتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے علاج کے لیے بہت سی دعائیں بتائی ہیں، ان میں سے ایک دعا حسب ذیل ہے:
﴿أعوذ بكلمات الله التامة، من كل شيطان و هامة و من كل عين لامة﴾ (صحیح البخاری، احادیث الانبیاء، حدیث: 3371)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی حکم ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے (مسلمان)
بھائی میں کوئی پسندیدہ خصلت دیکھے تو اس کے لیے برکت کی دعا کرے۔
(سنن ابن ماجہ، الطب، حدیث: 3509)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5738]