سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. باب : ما يعوذ به من الحمى
باب: بخار میں پڑھی جانے والی دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 3526
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْأَشْهَلِيُّ , عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ مِنَ الْحُمَّى , وَمِنَ الْأَوْجَاعِ كُلِّهَا , أَنْ يَقُولُوا:" بِسْمِ اللَّهِ الْكَبِيرِ , أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ مِنْ شَرِّ عِرْقٍ نَعَّارٍ , وَمِنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ" , قَالَ أَبُو عَامِرٍ: أَنَا أُخَالِفُ النَّاسَ فِي هَذَا أَقُولُ: يَعَّارٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بخار اور ہر طرح کے درد کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سکھاتے کہ اس طرح کہیں: «بسم الله الكبير أعوذ بالله العظيم من شر عرق نعار ومن شر حر النار» یعنی ”اللہ عظیم کے نام سے، جوش مارنے والی رگ کے شر سے، اور جہنم کی گرمی کے شر سے میں اللہ عظیم کی پناہ مانگتا ہوں“۔ ابوعامر کہتے ہیں کہ میں اس میں لوگوں کے برخلاف «یعّار» کہتا ہوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3526]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطب 26 (2075)، (تحفة الأشراف: 6076)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3001) (ضعیف)» (ابراہیم اشہلی ضعیف راوی ہیں)
وضاحت: ۱؎: اور لوگ «نعارنون» سے کہتے ہیں یعنی جوش مارنے والا، اور «یعار» کے معنی بدخلق، سخت اور سرکش کے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2075)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 504
إسناده ضعيف
ترمذي (2075)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 504
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2075
| بسم الله الكبير أعوذ بالله العظيم من شر كل عرق نعار ومن شر حر النار |
سنن ابن ماجه |
3526
| بسم الله الكبير أعوذ بالله العظيم من شر عرق نعار ومن شر حر النار |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3526 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3526
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
اس حدیث میں (يَعَّار)
کے لفظ کو (یُعَّار)
بھی پڑھا گیا ہے۔
یہ لفظ (عرارۃ)
”شدت بد خلقی“سے ماخوذ ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ وہ رگ جو (بیماری یا بخار کی وجہ سے)
شدت اور سختی کا باعث بنی ہوئی ہے۔
فوائد و مسائل:
اس حدیث میں (يَعَّار)
کے لفظ کو (یُعَّار)
بھی پڑھا گیا ہے۔
یہ لفظ (عرارۃ)
”شدت بد خلقی“سے ماخوذ ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ وہ رگ جو (بیماری یا بخار کی وجہ سے)
شدت اور سختی کا باعث بنی ہوئی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3526]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2075
بخار کے علاج سے متعلق ایک اور باب۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو بخار اور ہر قسم کے درد میں یہ دعا پڑھنا سکھاتے تھے، «بسم الله الكبير أعوذ بالله العظيم من شر كل عرق نعار ومن شر حر النار» ”میں بڑے اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اور عظمت والے اللہ کے واسطے سے ہر بھڑکتی رگ اور آگ کی گرمی کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2075]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو بخار اور ہر قسم کے درد میں یہ دعا پڑھنا سکھاتے تھے، «بسم الله الكبير أعوذ بالله العظيم من شر كل عرق نعار ومن شر حر النار» ”میں بڑے اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اور عظمت والے اللہ کے واسطے سے ہر بھڑکتی رگ اور آگ کی گرمی کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2075]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سندمیں ابراہیم بن اسماعیل ضعیف راوی ہیں)
نوٹ:
(سندمیں ابراہیم بن اسماعیل ضعیف راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2075]
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي