سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. بَابُ : الْفَزَعِ وَالأَرَقِ وَمَا يُتَعَوَّذُ مِنْهُ
باب: گھبراہٹ کے وقت اور نیند اچاٹ ہونے پر کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 3548
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ , حَدَّثَنِي عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ , قَالَ: لَمَّا اسْتَعْمَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الطَّائِفِ , جَعَلَ يَعْرِضُ لِي شَيْءٌ فِي صَلَاتِي حَتَّى مَا أَدْرِي مَا أُصَلِّي , فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ رَحَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" ابْنُ أَبِي الْعَاصِ" , قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" مَا جَاءَ بِكَ" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , عَرَضَ لِي شَيْءٌ فِي صَلَوَاتِي حَتَّى مَا أَدْرِي مَا أُصَلِّي , قَالَ:" ذَاكَ الشَّيْطَانُ ادْنُهْ" , فَدَنَوْتُ مِنْهُ , فَجَلَسْتُ عَلَى صُدُورِ قَدَمَيَّ , قَالَ: فَضَرَبَ صَدْرِي بِيَدِهِ , وَتَفَلَ فِي فَمِي , وَقَالَ:" اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّهِ" , فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ:" الْحَقْ بِعَمَلِكَ" , قَالَ: فَقَالَ عُثْمَانُ: فَلَعَمْرِي مَا أَحْسِبُهُ خَالَطَنِي بَعْدُ.
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا عامل مقرر کیا، تو مجھے نماز میں کچھ ادھر ادھر کا خیال آنے لگا یہاں تک کہ مجھے یہ یاد نہیں رہتا کہ میں کیا پڑھتا ہوں، جب میں نے یہ حالت دیکھی تو میں سفر کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا، تو آپ نے فرمایا: ”کیا ابن ابی العاص ہو“؟، میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ نے سوال کیا: ”تم یہاں کیوں آئے ہو“؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے نماز میں طرح طرح کے خیالات آتے ہیں یہاں تک کہ مجھے یہ بھی خبر نہیں رہتی کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شیطان ہے، تم میرے قریب آؤ، میں آپ کے قریب ہوا، اور اپنے پاؤں کی انگلیوں پر دو زانو بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھ سے میرا سینہ تھپتھپایا اور اپنے منہ کا لعاب میرے منہ میں ڈالا، اور (شیطان کو مخاطب کر کے) فرمایا: «اخرج عدو الله» ”اللہ کے دشمن! نکل جا“؟ یہ عمل آپ نے تین بار کیا، اس کے بعد مجھ سے فرمایا: ”اپنے کام پر جاؤ“ عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: قسم سے! مجھے نہیں معلوم کہ پھر کبھی شیطان میرے قریب پھٹکا ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3548]
حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف میں عامل مقرر کیا تو مجھے نماز میں (پریشان کن) خیالات آنے لگے حتی کہ مجھے یہ بھی پتہ نہ چلتا کہ میں نماز میں کیا پڑھ رہا ہوں۔ جب میں نے یہ صورت حال دیکھی تو میں سفر کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (تعجب سے) فرمایا: ”ابن العاص ہو؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں، اے اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم آ کیوں گئے؟“ میں نے کہا: ”اللہ کے رسول! مجھے نماز میں ایسی صورت حال آتی ہے کہ مجھے یاد نہیں رہتا کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شیطان کی طرف سے (شرارت) ہے۔ میرے قریب آؤ۔“ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو گیا اور پنجوں کے بل بیٹھ گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور میرے منہ میں تھنکارا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّهِ» ”اللہ کے دشمن! نکل جا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار اس طرح کیا۔ پھر فرمایا: ”اپنے کام پر چلے جاؤ۔“ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میری عمر گواہ ہے کہ اس کے بعد مجھے کبھی شیطان نے پریشان نہیں کیا۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3548]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9767، ومصباح الزجاجة: 1238) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3548
| اخرج عدو الله ففعل ذلك ثم قال الحق بعملك |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3548 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3548
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
شیطان مومن کو نماز پڑھنے سے روکنے کی کوشش کرتاہے۔
(2)
شیطان کے وسوسے پریشان کن حد تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
اس صورت میں اللہ سے دعا کرنا اور معوذتین وغیرہ پڑھنا مفید ہے۔
(3)
۔
صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی نظر میں نماز کی اہمیت عہدے اور دوسرے فرائض منصبی سے بڑھ کر تھی۔
(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لعاب دہن کی برکت سے شیطان دور ہوگیا۔
(4)
شاگرد اور عقیدت مند افراد کی مشکل کے حل کے لئے دعا اور دم وغیرہ سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔
خاص طور پر جب مشکل روحانی قسم کی ہو۔
(5)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ کی وجہ سے شیطان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے سے نکل جاتا تھا۔
اور اس کے بعد اس شخص کو تنگ کرنے کی جراءت نہیں کرتا تھا۔
(6)
شیطان انسان کے اندرداخل ہوتا ہے اور مسنون اذکار وادعیہ کی برکت سے نکل جاتا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
شیطان مومن کو نماز پڑھنے سے روکنے کی کوشش کرتاہے۔
(2)
شیطان کے وسوسے پریشان کن حد تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
اس صورت میں اللہ سے دعا کرنا اور معوذتین وغیرہ پڑھنا مفید ہے۔
(3)
۔
صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی نظر میں نماز کی اہمیت عہدے اور دوسرے فرائض منصبی سے بڑھ کر تھی۔
(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لعاب دہن کی برکت سے شیطان دور ہوگیا۔
(4)
شاگرد اور عقیدت مند افراد کی مشکل کے حل کے لئے دعا اور دم وغیرہ سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔
خاص طور پر جب مشکل روحانی قسم کی ہو۔
(5)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ کی وجہ سے شیطان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے سے نکل جاتا تھا۔
اور اس کے بعد اس شخص کو تنگ کرنے کی جراءت نہیں کرتا تھا۔
(6)
شیطان انسان کے اندرداخل ہوتا ہے اور مسنون اذکار وادعیہ کی برکت سے نکل جاتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3548]
Sunan Ibn Majah Hadith 3548 in Urdu
عبد الرحمن بن جوشن الغطفاني ← عثمان بن أبي العاص الثقفي