سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب : النهي عن الاضطجاع على الوجه
باب: اوندھے منہ لیٹنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 3723
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ طِخْفَةَ الْغِفَارِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: أَصَابَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَى بَطْنِي , فَرَكَضَنِي بِرِجْلِهِ، وَقَالَ:" مَا لَكَ وَلِهَذَا النَّوْمِ , هَذِهِ نَوْمَةٌ يَكْرَهُهَا اللَّهُ أَوْ يُبْغِضُهَا اللَّهُ".
طخفہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مسجد میں پیٹ کے بل (اوندھے منہ) سویا ہوا پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں سے مجھے ہلا کر فرمایا: ”تم اس طرح کیوں سو رہے ہو؟ یہ سونا اللہ کو ناپسند ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3723]
حضرت طخفہ بن قیس غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مسجد میں پیٹ کے بل سوئے ہوئے پایا تو مجھے قدم مبارک سے ٹہوکا دیا اور فرمایا: ”اس انداز سے کیوں سوتے ہو؟ سونے کا یہ انداز اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3723]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأدب 103 (5040)، (تحفة الأشراف: 4991)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/429) (صحیح) (ملاحظہ ہو: المشکاة: 4718 - 4719 - 4731)»
وضاحت: پیٹ کے بل لیٹنا ممنوع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3723
| هذه نومة يكرهها الله أو يبغضها الله |
Sunan Ibn Majah Hadith 3723 in Urdu
طهفة بن قيس الغفاري ← طهفة بن قيس الغفاري