🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. بَابُ : الرَّجُلِ يُكَنَّى قَبْلَ أَنْ يُولَدَ لَهُ
باب: اولاد ہونے سے پہلے کنیت رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3738
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنْ حَمْزَةَ بْنِ صُهَيْبٍ , أَنَّ عُمَرَ , قَالَ لِصُهَيْبٍ : مَا لَكَ تَكْتَنِي بِأَبِي يَحْيَى وَلَيْسَ لَكَ وَلَدٌ؟ قَالَ:" كَنَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي يَحْيَى".
حمزہ بن صہیب سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے صہیب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم اپنی کنیت ابویحییٰ کیوں رکھتے ہو؟ حالانکہ تمہیں کوئی اولاد نہیں ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کنیت ابویحییٰ رکھی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3738]
حضرت حمزہ بن صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”آپ نے اپنی کنیت «أَبُو يَحْيَىٰ» ”ابو یحییٰ“ کیوں رکھی ہے، حالانکہ آپ کی اولاد نہیں ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”میری کنیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «أَبُو يَحْيَىٰ» ”ابو یحییٰ“ رکھی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3738]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4959، ومصباح الزجاجة: 1307)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/16) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں عبداللہ بن محمد بن عقیل منکر الحدیث ہے، لیکن عمر رضی اللہ عنہ کے ابوداود کے شاہد سے یہ حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 33)
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ اولاد ہونے سے پہلے بھی آدمی کنیت رکھ سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن عقيل ضعيف
وللحديث شواھد ضعيفة عند أحمد (4/ 333،6/ 16) والحاكم (3 /398) وغيرهما
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 511

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
14538

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥صهيب الرومي، أبو يحيى، أبو غسانصحابي
👤←👥حمزة بن صهيب القرشي
Newحمزة بن صهيب القرشي ← صهيب الرومي
مقبول
👤←👥عبد الله بن عقيل الهاشمي، أبو محمد
Newعبد الله بن عقيل الهاشمي ← حمزة بن صهيب القرشي
مقبول
👤←👥زهير بن محمد التميمي، أبو المنذر
Newزهير بن محمد التميمي ← عبد الله بن عقيل الهاشمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥يحيى بن أبي بكير القيسي، أبو زكريا
Newيحيى بن أبي بكير القيسي ← زهير بن محمد التميمي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← يحيى بن أبي بكير القيسي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3738
كناني رسول الله بأبي يحيى
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3738 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3738
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ حافظ ابن حجر اور شیخ البانی ؒ نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الصحيحة رقم: 44)
یہ بات چیت حضرت صہیب ؓ کے بیٹے حضرت حمزہ ؒ کی ولادت سے پہلے ہوئی، بعد میں انہیں بتائی گئی۔

(2)
اولاد ہونے سے پہلے کنیت رکھنا جائز ہے۔

(3)
جس طرح انبیائےکرام ؑ کے ناموں کے مطابق نام رکھنا جائز ہے، اسی طرح ان ناموں کے ساتھ کنیت رکھنا بھی جائز ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3738]

Sunan Ibn Majah Hadith 3738 in Urdu