سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب : الرجل والمرأة يغتسلان من إناء واحد
باب: ایک ہی برتن سے مرد اور عورت کے غسل کا بیان۔
حدیث نمبر: 379
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَزْوَاجُهُ يَغْتَسِلُونَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 379]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2375، ومصباح الزجاجة: 157)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/77) (صحیح)» (اس سند کی بوصیری نے تحسین کی ہے، اور اس میں شریک القاضی سئ الحفظ ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن عقيل الهاشمي، أبو محمد عبد الله بن عقيل الهاشمي ← جابر بن عبد الله الأنصاري | مقبول | |
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله شريك بن عبد الله القاضي ← عبد الله بن عقيل الهاشمي | صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا | |
👤←👥محمد بن الحسن الأسدي، أبو عبد الله، أبو جعفر محمد بن الحسن الأسدي ← شريك بن عبد الله القاضي | صدوق فيه لين | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن الحسن الأسدي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
379
| يغتسلون من إناء واحد |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 379 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث379
اردو حاشہ:
مطلب یہ ہے کہ جس ام المومنین کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرماتے ان کے ساتھ ہی ایک برتن میں غسل کرلیتےتھے۔
یہ مطلب نہیں کہ ایک سے زیادہ ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن بیک وقت اکھٹی غسل کرتی ہوں کیونکہ عورت کو دوسری عورت سے وہ اعضاء چھپانا ضروری ہیں جو خاوند سے چھپانا ضروری نہیں۔
مطلب یہ ہے کہ جس ام المومنین کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرماتے ان کے ساتھ ہی ایک برتن میں غسل کرلیتےتھے۔
یہ مطلب نہیں کہ ایک سے زیادہ ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن بیک وقت اکھٹی غسل کرتی ہوں کیونکہ عورت کو دوسری عورت سے وہ اعضاء چھپانا ضروری ہیں جو خاوند سے چھپانا ضروری نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 379]
عبد الله بن عقيل الهاشمي ← جابر بن عبد الله الأنصاري