🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب : الرجل والمرأة يغتسلان من إناء واحد
باب: ایک ہی برتن سے مرد اور عورت کے غسل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 379
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَزْوَاجُهُ يَغْتَسِلُونَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 379]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2375، ومصباح الزجاجة: 157)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/77) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس سند کی بوصیری نے تحسین کی ہے، اور اس میں شریک القاضی سئ الحفظ ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن عقيل الهاشمي، أبو محمد
Newعبد الله بن عقيل الهاشمي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
مقبول
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله
Newشريك بن عبد الله القاضي ← عبد الله بن عقيل الهاشمي
صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا
👤←👥محمد بن الحسن الأسدي، أبو عبد الله، أبو جعفر
Newمحمد بن الحسن الأسدي ← شريك بن عبد الله القاضي
صدوق فيه لين
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن الحسن الأسدي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
379
يغتسلون من إناء واحد
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 379 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث379
اردو حاشہ:
مطلب یہ ہے کہ جس ام المومنین کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرماتے ان کے ساتھ ہی ایک برتن میں غسل کرلیتےتھے۔
یہ مطلب نہیں کہ ایک سے زیادہ ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن بیک وقت اکھٹی غسل کرتی ہوں کیونکہ عورت کو دوسری عورت سے وہ اعضاء چھپانا ضروری ہیں جو خاوند سے چھپانا ضروری نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 379]