🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب : اسم الله الأعظم
باب: اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3857
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ , أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ , الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى , وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے سنا: «اللهم إني أسألك بأنك أنت الله الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تو ہی اکیلا اللہ ہے، بے نیاز ہے، جس نے نہ جنا اور نہ وہ جنا گیا، اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ سوال کیا ہے جس کے ذریعہ اگر سوال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے، اور دعا کی جائے تو وہ قبول کرتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3857]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 358 (1493، 1494)، سنن الترمذی/الدعوات 64 (3475)، (تحفة الأشراف: 1998)، وقد أخرجہ: مسند احمد (0.6355/349، 350، 360) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥بريدة بن الحصيب الأسلمي، أبو سهل، أبو ساسان، أبو عبد الله، أبو الحصيبصحابي
👤←👥عبد الله بن بريدة الأسلمي، أبو سهل
Newعبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي
ثقة
👤←👥مالك بن مغول البجلي، أبو عبد الله
Newمالك بن مغول البجلي ← عبد الله بن بريدة الأسلمي
ثقة ثبت
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← مالك بن مغول البجلي
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3475
سأل الله باسمه الأعظم الذي إذا دعي به أجاب وإذا سئل به أعطى
سنن أبي داود
1493
سألت الله بالاسم الذي إذا سئل به أعطى وإذا دعي به أجاب
سنن ابن ماجه
3857
سأل الله باسمه الأعظم الذي إذا سئل به أعطى وإذا دعي به أجاب
بلوغ المرام
1351
لقد سأل الله باسمه الذي إذا سئل به أعطى وإذا دعي به أجاب
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3857 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3857
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس دعا میں اللہ تعالیٰ کی جن صفات کا ذکر کیا گیا ہے وہ سورۂ اخلاص میں ذکر کردہ صفات ہیں جو توحید کا جامع بیان ہونے کی وجہ سے (لاَإِلٰهَ إِلاَّ الله)
کے مفہوم پر بھی مشتمل ہیں۔

(2)
اللہ کے اسماء صفات کے واسطے سے دعا کرنا قبولیت کا سبب ہے۔

(3)
مخلوقات کے واسطے اور وسیلے سےسوال کرنا قرآن مجید اور صحیح احادیث سے ثابت نہیں، لہٰذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3857]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1493
دعا کا بیان۔
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کہتے سنا: «اللهم إني أسألك أني أشهد أنك أنت الله لا إله إلا أنت، الأحد، الصمد، الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس وسیلے سے کہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں، تو تنہا اور ایسا بے نیاز ہے جس نے نہ تو جنا ہے اور نہ ہی وہ جنا گیا ہے اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اللہ سے اس کا وہ نام لے کر مانگا ہے کہ جب اس سے کوئی یہ نام لے کر مانگتا ہے تو عطا کرتا ہے اور جب کوئی دعا کرتا ہے تو قبول فرماتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1493]
1493. اردو حاشیہ:
➊ اللہ عزوجل کے اسمائے حسنیٰ اور صفات عالیہ کے وسیلہ سے دعا کرنا مستحب مسنون اور مطلوب ہے۔ اور مشروع وسیلہ کی ایک صورت ہے۔
➋ اللہ عزوجل کے تمام اسماء عظیم ہیں۔ ان میں فرق کرنا یا ایک کو دوسرے پر فوقیت دینا جائز نہیں۔ جس کے قائل ابو الحسن اشعری اور ابو بکر محمد الباقلانی وغیر ہیں۔ ان کے نذدیک اعظم۔ عظیم۔ کے معنی میں ہے۔ ابن حبان کا خیال ہے کہ یہاں اعظمیت سے مراد داعی کے لئے مزید اجرو ثواب ہے۔ امام طیبی کہتے ہیں۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے اسم اعظم ہے۔ کہ جب اس کے ساتھ دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔ [عون المعبود]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1493]

علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1351
ذکر اور دعا کا بیان
سیدنا بریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو یہ کلمات کہتے ہوئے سنا «‏‏‏‏اللهم إني أسألك بأني أشهد أنك أنت الله لا إله إلا أنت الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» ‏‏‏‏ الٰہی! میں آپ سے سوال کرتا ہوں اس لئے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے اور عبادت کے لائق تیرے سوا کوئی نہیں۔ تو تنہا ہے اور بے نیاز ہے جس سے نہ کوئی پیدا ہوا، نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ کوئی اس کا ہمسر و ساجھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے اس اسم مبارک کے ذریعہ سے مانگا ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ طلب کیا جائے تو وہ عطا فرماتا ہے اور جب دعا کی جاتی ہے تو اسے قبول فرماتا ہے۔ اسے ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1351»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الصلاة، باب الدعاء، حديث:1493، والترمذي، الدعوات، حديث:3475، وابن ماجه، الدعاء، حديث:3857، والنسائي في الكبرٰي: 4 /395، حديث:7666، وابن حبان(الموارد)، حديث:2383.»
تشریح:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دعا کے وقت ان کلمات کو پڑھنا چاہیے کیونکہ یہ قبولیت دعا کا ذریعہ ہیں۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1351]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3475
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے منقول جامع دعاؤں کا بیان۔
بریدہ اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ان کلمات کے ساتھ: «اللهم إني أسألك بأني أشهد أنك أنت الله لا إله إلا أنت الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں بایں طور کہ میں تجھے گواہ بناتا ہوں اس بات پر کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، تو اکیلا (معبود) ہے تو بے نیاز ہے، (تو کسی کا محتاج نہیں تیرے سب محتاج ہیں)، (تو ایسا بے نیاز ہے) جس نے نہ کسی کو جنا ہے اور نہ ہی کسی نے اسے جنا ہے، اور نہ ہی کوئی اس کا ہمسر ہوا ہے ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3475]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں بایں طور کہ میں تجھے گواہ بناتا ہوں اس بات پرکہ تو ہی اللہ ہے،
تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے،
تو اکیلا (معبود) ہے تو بے نیاز ہے،
(تو کسی کا محتاج نہیں تیرے سب محتاج ہیں) (تو ایسا بے نیاز ہے) جس نے نہ کسی کو جنا ہے اور نہ ہی کسی نے اسے جنا ہے،
اور نہ ہی کوئی اس کا ہمسر ہوا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3475]

Sunan Ibn Majah Hadith 3857 in Urdu