🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. باب : ما يدعو به الرجل إذا نظر إلى أهل البلاء
باب: مصیبت زدہ کو دیکھ کر کیا دعا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3892
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ خَارِجَةَ بْنِ مُصْعَبٍ , عَنْ أَبِي يَحْيَى عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , وَلَيْسَ بِصَاحِبِ ابْنِ عُيَيْنَةَ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ , عَنْ سَالِم , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ فَجِئَهُ صَاحِبُ بَلَاءٍ , فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ , وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا , عُوفِيَ مِنْ ذَلِكَ الْبَلَاءِ كَائِنًا مَا كَانَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اچانک کسی کو بلایا مصیبت میں مبتلا دیکھے تو یہ دعا پڑھے: «الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا» تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے عافیت دی اس چیز سے جس میں تجھ کو مبتلا کیا، اور مجھے اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت بخشی، تو وہ اس بلا اور مصیبت سے محفوظ رہے گا، چاہے کوئی بھی بلا اور مصیبت ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3892]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 38 (3431)، (تحفة الأشراف: 6787، 10528) (حسن)» ‏‏‏‏ (خارجہ بن مصعب متروک الحدیث اور ابو یحییٰ عمرو بن دینار ضعیف ہیں، اصل حدیث متابعات و شواہد کی بناء پر حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 602، 2737)
وضاحت: ۱؎: یعنی ہر قسم کی بلاؤں سے لیکن اگر یہ بلا دینی ہو جیسے کسی کو فسق اور فجور میں دیکھے تو یہ دعا پڑھے تاکہ اس شخص کو نصیحت ہو اور اگر دنیوی بلا ہو، جیسے کوڑھ، جذام وغیرہ تو آہستہ سے پڑھے کہ وہ شخص نہ سنے، اور اس کے دل کو رنج نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3431)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 515

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو يحيى
Newعمرو بن دينار الجمحي ← سالم بن عبد الله العدوي
ضعيف الحديث
👤←👥خارجة بن مصعب الضبعي، أبو الحجاج
Newخارجة بن مصعب الضبعي ← عمرو بن دينار الجمحي
متروك الحديث
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← خارجة بن مصعب الضبعي
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3431
من رأى صاحب بلاء فقال الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا إلا عوفي من ذلك البلاء كائنا ما كان ما عاش
سنن ابن ماجه
3892
من فجئه صاحب بلاء فقال الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا عوفي من ذلك البلاء كائنا ما كان
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3892 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3892
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
 
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ شیخ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
اس پر سیر حاصل بحث کرتے ہوئے اس کے شواہد کا تذکرہ کیا ہے۔
جس سے شیخ البانی ہی کی رائے اقرب الصواب معلوم ہوتی ہے۔
لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد اور متابعات کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کےلئے دیکھئے۔ (سلسلة الأحادیث الصحیة للأبانی، رقم 602، 2737)

(2)
مصیبت زدہ کو دیکھ کر اپنی عافیت کی قدر معلوم ہوتی ہے۔
لہذا اللہ کے اس احسان پر اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

(3)
مصیبت زدہ کو دیکھ کر یہ دعا آہستہ پڑھنی چاہیے۔
تاکہ وہ سن نہ لے ورنہ اسے رنج ہوگا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3892]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3431
جب کوئی کسی کو مصیبت میں مبتلا دیکھے تو کیا کہے؟
عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مصیبت میں گرفتار کسی شخص کو دیکھے اور کہے: «الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا» سب تعریف اللہ کے لیے ہے کہ جس نے مجھے اس بلا و مصیبت سے بچایا جس سے تجھے دوچار کیا، اور مجھے فضیلت دی، اپنی بہت سی مخلوقات پر، تو وہ زندگی بھر ہر بلا و مصیبت سے محفوظ رہے گا خواہ وہ کیسی ہو۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3431]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
سب تعریف اللہ کے لیے ہے کہ جس نے مجھے اس بلا ومصیبت سے بچایا جس سے تجھے دوچار کیا،
اور مجھے فضیلت دی،
اپنی بہت سی مخلوقات پر۔

نوٹ:
(سند میں عمرو بن دینار قھرمان آل زبیر ضعیف راوی ہیں،
لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے،
دیکھیے اگلی حدیث)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3431]

Sunan Ibn Majah Hadith 3892 in Urdu