سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب : رؤية النبي صلى الله عليه وسلم في المنام
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3900
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ , فَقَدْ رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ , فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ عَلَى صُورَتِي".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مجھے خواب میں دیکھا، تو اس نے مجھے بیداری میں دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت نہیں اپنا سکتا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3900]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الرؤیا 4 (2276)، (تحفة الأشراف: 9509)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/375، 400، 440، 450)، سنن الدارمی/الرؤیا 4 (1285) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: پس جب کوئی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے حلیہ اور صورت پر دیکھے جیسا کہ صحیح حدیث میں آ رہا ہے تو اس کا خواب سچ ہے اور اس نے بیشک آپ کو دیکھا، کیونکہ شیطان کی یہ طاقت نہیں کہ آپ کی شکل اختیار کرے، لیکن خواب میں دیکھنا ہر بات میں بیداری میں دیکھنے کے برابر نہیں ہے، مثلاً خواب میں آپ کو دیکھنے سے آدمی صحابی نہیں ہو سکتا، اسی طرح علماء کہتے ہیں کہ آپ کو شرع کے خلاف کسی بات کا حکم دیتے خواب میں دیکھے تو یہ حجت نہ ہو گا، شرع کی پیروی ضروری ہے، جیسے منقول ہے کہ ایک شخص نے خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ شراب پینے کا حکم دے رہے ہیں، وہ بیدار ہوکر حیران ہوا، ایک عالم نے اس کو بتلایا کہ یہ تیرا سہو ہے، آپ نے شراب پینے سے منع فرمایا ہے، اسی طرح علماء کہتے ہیں کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی اور شکل پر دیکھے مثلاً داڑ ھی منڈے آدمی کی شکل پر تو گویا اس نے آپ کو نہیں دیکھا، اور یہ خواب صحیح نہیں ہو گا، اور یہ امر متفق علیہ ہے کہ خواب میں آپ کا کوئی حکم ظاہری شرع کے خلاف ہو تو اس پر عمل کرنا جائز نہیں ہے، یہ کہا جائے گا کہ دیکھنے والے کو دھوکا ہوا جب بیداری میں شیطان آدمی کو اس قدر دھوکہ دیتا ہے تو خواب میں اس کی مداخلت بدرجہ اولیٰ ہو سکتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥عوف بن مالك الجشمي، أبو الأحوص عوف بن مالك الجشمي ← عبد الله بن مسعود | ثقة | |
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق أبو إسحاق السبيعي ← عوف بن مالك الجشمي | ثقة مكثر | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← أبو إسحاق السبيعي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن علي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2276
| من رآني في المنام فقد رآني الشيطان لا يتمثل بي |
سنن ابن ماجه |
3900
| من رآني في المنام فقد رآني في اليقظة الشيطان لا يتمثل على صورتي |
عوف بن مالك الجشمي ← عبد الله بن مسعود