سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب : فتنة المال
باب: مال دولت کا فتنہ۔
حدیث نمبر: 3995
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ , أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ , يَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ , فَقَالَ:" لَا وَاللَّهِ مَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ إِلَّا مَا يُخْرِجُ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا" , فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً , ثُمَّ قَالَ:" كَيْفَ قُلْتَ؟" , قَالَ: قُلْتُ: وَهَلْ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ , أَوَ خَيْرٌ هُوَ إِنَّ كُلَّ مَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا , أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرِ أَكَلَتْ , حَتَّى إِذَا امْتَلَأَتِ امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا , اسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ , ثُمَّ اجْتَرَّتْ فَعَادَتْ فَأَكَلَتْ , فَمَنْ يَأْخُذُ مَالًا بِحَقِّهِ يُبَارَكُ لَهُ , وَمَنْ يَأْخُذُ مَالًا بِغَيْرِ حَقِّهِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے فرمایا: ”اللہ کی قسم، لوگو! مجھے تمہارے متعلق کسی بات کا خوف نہیں، ہاں صرف اس بات کا ڈر ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دنیاوی مال و دولت سے نوازے گا“، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا خیر (مال و دولت) سے شر پیدا ہوتا ہے؟ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، پھر قدرے سکوت کے بعد فرمایا: ”تم نے کیسے کہا تھا“؟ میں نے عرض کیا: کیا خیر (یعنی مال و دولت کی زیادتی) سے شر پیدا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیر سے تو خیر ہی پیدا ہوتا ہے، اور کیا وہ مال خیر ہے؟ ہر وہ سبزہ جسے موسم بہار اگاتا ہے، جانور کا پیٹ پھلا کر بدہضمی سے مار ڈالتا ہے، یا مرنے کے قریب کر دیتا ہے، مگر اس جانور کو جو گھاس کھائے یہاں تک کہ جب پیٹ پھول کر اس کے دونوں پہلو تن جائیں تو دھوپ میں چل پھر کر، پاخانہ پیشاب کرے، اور جگالی کر کے ہضم کر لے، اور واپس آ کر پھر کھائے، تو اسی طرح جو شخص مال کو جائز طریقے سے حاصل کرے گا، تو اس کے مال میں برکت ہو گی، اور جو اسے ناجائز طور پر حاصل کرے گا، تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی کھاتا رہے اور آسودہ نہ ہو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3995]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: ”لوگو! اللہ کی قسم! مجھے تمہارے بارے میں صرف دنیا کی زینت (اور مال و دولت) سے خطرہ ہے جو اللہ تعالیٰ تمہیں عطا فرمائے گا۔“ ایک آدمی نے کہا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا خیر سے بھی شر حاصل ہو جاتا ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر خاموش رہے، پھر فرمایا: ”تم نے کیا سوال کیا؟“ اس نے کہا: ”میں نے کہا تھا: کیا خیر سے بھی شر حاصل ہوتا ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیر (حلال مال) سے خیر ہی حاصل ہوتا ہے، کیا وہ خیر ہے؟ (دنیا کا ہر مال خیر نہیں ہوتا۔) موسم بہار میں جو سبزہ اگتا ہے اس سے جانور اپھارے کا شکار ہو کر مر جاتا ہے یا مرنے کے قریب ہو جاتا ہے، مگر وہ چرنے والا جانور (بچ جاتا ہے) جو کھاتا ہے، پھر جب اس کی کوکھیں بھر جاتی ہیں تو دھوپ کی طرف منہ کر کے گوبر اور پیشاب کرتا ہے، پھر جگالی کرتا ہے، اس کے بعد دوبارہ کھانے لگتا ہے۔ جو شخص جائز طریقے سے مال حاصل کرتا ہے اسے اس میں برکت ہوتی ہے، اور جو شخص ناجائز طریقے سے مال حاصل کرتا ہے اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی کھاتا رہتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3995]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الزکاة 41 (1052)، (تحفة الأشراف: 4273)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 28 (921)، الزکاة 47 (1465)، الجہاد 37 (2842)، الرقاق 7 (6427)، سنن النسائی/الزکاة 81 (2582)، مسند احمد (3/7، 91) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3995 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3995
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مال ودولت کی حرص انسان کے دین کے لیے خطرناک ہے
(2)
مال اللہ کی نعمت ہے اس لیے حلال طریقے سے حاصل کرنا منع نہیں۔
(3)
حلال کمائی سے حاصل ہونے والا مال بھی خرچ نہ کرنا سمیٹ سمیٹ کر رکھنا نقصان دہ ہے۔
(4)
گھاس اور سبزہ جانور کے لیے مفید ہے بشرطیکہ پہلا کھایا ہوا ہضم ہونے كے بعد اور کھائے۔
اگر مسلسل کھاتا جائے گا تو نقصان اٹھائے گا۔
اسی طرح مال مفید چیز ہے بشرطیکہ اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ بھی کیا جائے۔
(5)
مثال دے کر سمجھانے سے بات زیادہ اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مال ودولت کی حرص انسان کے دین کے لیے خطرناک ہے
(2)
مال اللہ کی نعمت ہے اس لیے حلال طریقے سے حاصل کرنا منع نہیں۔
(3)
حلال کمائی سے حاصل ہونے والا مال بھی خرچ نہ کرنا سمیٹ سمیٹ کر رکھنا نقصان دہ ہے۔
(4)
گھاس اور سبزہ جانور کے لیے مفید ہے بشرطیکہ پہلا کھایا ہوا ہضم ہونے كے بعد اور کھائے۔
اگر مسلسل کھاتا جائے گا تو نقصان اٹھائے گا۔
اسی طرح مال مفید چیز ہے بشرطیکہ اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ بھی کیا جائے۔
(5)
مثال دے کر سمجھانے سے بات زیادہ اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3995]
Sunan Ibn Majah Hadith 3995 in Urdu
عياض بن عبد الله العامري ← أبو سعيد الخدري