🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب : فتنة المال
باب: مال دولت کا فتنہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3996
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيُّ , أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ , أَنَّ يَزِيدَ بْنَ رَبَاحٍ حَدَّثَهُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا فُتِحَتْ عَلَيْكُمْ خَزَائِنُ فَارِسَ , وَالرُّومِ أَيُّ قَوْمٍ أَنْتُمْ؟" , قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: نَقُولُ: كَمَا أَمَرَنَا اللَّهُ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ تَتَنَافَسُونَ , ثُمَّ تَتَحَاسَدُونَ , ثُمَّ تَتَدَابَرُونَ , ثُمَّ تَتَبَاغَضُونَ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ , ثُمَّ تَنْطَلِقُونَ فِي مَسَاكِينِ الْمُهَاجِرِينَ , فَتَجْعَلُونَ بَعْضَهُمْ عَلَى رِقَابِ بَعْضٍ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم پر فارس اور روم کے خزانے کھول دئیے جائیں گے، تو اس وقت تم کون لوگ ہو گے (تم کیا کہو گے)؟ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ہم وہی کہیں گے (اور کریں گے) جو اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے علاوہ کچھ اور نہیں کہو گے؟ تم مال میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی خواہش کرو گے، اور ایک دوسرے سے حسد کرو گے، پھر ایک دوسرے سے منہ موڑو گے، اور ایک دوسرے سے بغض و نفرت رکھو گے یا ایسا ہی کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: اس کے بعد مسکین مہاجرین کے پاس جاؤ گے، پھر ان کا بوجھ ان ہی پر رکھو گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3996]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الزہد 1 (2962)، (تحفة الأشراف: 8948) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥يزيد بن رباح القرشي، أبو فراس
Newيزيد بن رباح القرشي ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة
👤←👥بكر بن سوادة الجذامي، أبو ثمامة
Newبكر بن سوادة الجذامي ← يزيد بن رباح القرشي
ثقة
👤←👥عمرو بن الحارث الأنصاري، أبو أيوب، أبو أمية
Newعمرو بن الحارث الأنصاري ← بكر بن سوادة الجذامي
ثقة فقيه حافظ
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← عمرو بن الحارث الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥عمرو بن سواد القرشي، أبو محمد
Newعمرو بن سواد القرشي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
7427
إذا فتحت عليكم فارس والروم أي قوم أنتم قال عبد الرحمن بن عوف نقول كما أمرنا الله قال رسول الله تتنافسون ثم تتحاسدون ثم تتدابرون ثم تتباغضون أو نحو ذلك ثم تنطلقون في مساكين المهاجرين فتجعلون بعضهم على رقاب بعض
سنن ابن ماجه
3996
إذا فتحت عليكم خزائن فارس والروم أي قوم أنتم قال عبد الرحمن بن عوف نقول كما أمرنا الله قال رسول الله أو غير ذلك تتنافسون ثم تتحاسدون ثم تتدابرون ثم تتباغضون ثم تنطلقون في مساكين المهاجرين فتجعلون بعضهم على رقاب بعض
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3996 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3996
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  رشک لینے سے یہاں دنیا مے مال کی طرف مسابقت مراد ہے۔
کسی نعمت کے بارے میں یہ خواہش ہے کہ وہ مجھے ملےدوسرے کو نہ ملے ناجائز رشک ہے۔
اس قسم کا رشک حسد تک لےجاتا ہے جو ناپسندیدہ ہے۔
جائز رشک کا مطلب یہ خواہش ہے کہ جیسی نعمت کسی کو ملی ہے ویسی مجھے بھی ملے۔
یہ رشک جائز ہے
(2)
حسد کے نتیجے میں تعلقات کشیدہ ہوتے ہیں اور دشمنی تک نوبت جا پہنچتی ہے۔
یہ سب عادتیں مذموم ہیں۔

(3)
آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ دولت مند افراد تنگ دست افراد پر سختی کرینگے اور رعب جمائیں گے۔
یہ صفات صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں نہیں تھیں۔
بعد والوں میں ایسے افراد ظاہر ہوئے جن میں ایسی خصلتیں موجود تھیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3996]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7427
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، کہ آپ نے فرمایا:"جب روم اور فارس فتح ہوجائیں گے تو تم کس طرح کی قوم ہوگے؟"حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا،ہم وہی بات کریں گے جس کا اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛"یا اس کے برعکس تم(دنیا کے معاملے میں) ایک دوسرے سے مقابلہ کروگے،پھر ایک د وسرے کے حسد کرنے لگوگے،پھر ایک دوسرے سے منہ موڑ لوگے پھر ایک دوسرے سے بغض میں مبتلا ہوجاؤ گے۔پھرمسلمین... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7427]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
مال و دولت کی کثرت اور اس کی رغبت و چاہت کے نتائج بالترتیب وہ نکلتے ہیں اور نکل رہے ہیں،
جن کی آپ نے نشان دہی فرمائی تھی،
اللہ محفوظ فرمائے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7427]