صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. باب ما جاء ان الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر
باب: دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہونے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2962 ترقیم شاملہ: -- 7427
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ رَبَاحٍ هُوَ أَبُو فِرَاسٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا فُتِحَتْ عَلَيْكُمْ فَارِسُ وَالرُّومُ أَيُّ قَوْمٍ أَنْتُمْ؟، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ نَقُولُ: كَمَا أَمَرَنَا اللَّهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ تَتَنَافَسُونَ ثُمَّ تَتَحَاسَدُونَ ثُمَّ تَتَدَابَرُونَ ثُمَّ تَتَبَاغَضُونَ، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ ثُمَّ تَنْطَلِقُونَ فِي مَسَاكِينِ الْمُهَاجِرِينَ، فَتَجْعَلُونَ بَعْضَهُمْ عَلَى رِقَابِ بَعْضٍ ".
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مولی یزید بن ابوفراس رباح نے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”جب روم اور فارس فتح ہو جائیں گے تو تم کس طرح کی قوم ہو گے؟“ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم وہی بات کریں گے جس کا اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اس کے برعکس تم (دنیا کے معاملے میں) ایک دوسرے سے مقابلہ کرو گے، پھر ایک دوسرے سے حسد کرنے لگو گے، پھر ایک دوسرے سے منہ موڑ لو گے، پھر ایک دوسرے سے بغض میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ پھر مسلمین مہاجرین کے ہاں جاؤ گے اور ان میں سے کچھ کو (حاکم بنا کر) دوسروں کی گردنوں پر مسلط کر دو گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7427]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب روم اور فارس فتح ہو جائیں گے تو تم کس طرح کی قوم ہو گے؟“ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم وہی بات کریں گے جس کا اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اس کے برعکس تم (دنیا کے معاملے میں) ایک دوسرے سے مقابلہ کرو گے، پھر ایک دوسرے سے حسد کرنے لگو گے، پھر ایک دوسرے سے منہ موڑ لو گے، پھر ایک دوسرے سے بغض میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ پھر مسلمان مہاجرین کے ہاں جاؤ گے اور ان میں سے کچھ کو (حاکم بنا کر) دوسروں کی گردنوں پر مسلط کر دو گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7427]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2962
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
7427
| إذا فتحت عليكم فارس والروم أي قوم أنتم قال عبد الرحمن بن عوف نقول كما أمرنا الله قال رسول الله تتنافسون ثم تتحاسدون ثم تتدابرون ثم تتباغضون أو نحو ذلك ثم تنطلقون في مساكين المهاجرين فتجعلون بعضهم على رقاب بعض |
سنن ابن ماجه |
3996
| إذا فتحت عليكم خزائن فارس والروم أي قوم أنتم قال عبد الرحمن بن عوف نقول كما أمرنا الله قال رسول الله أو غير ذلك تتنافسون ثم تتحاسدون ثم تتدابرون ثم تتباغضون ثم تنطلقون في مساكين المهاجرين فتجعلون بعضهم على رقاب بعض |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7427 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7427
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
مال و دولت کی کثرت اور اس کی رغبت و چاہت کے نتائج بالترتیب وہ نکلتے ہیں اور نکل رہے ہیں،
جن کی آپ نے نشان دہی فرمائی تھی،
اللہ محفوظ فرمائے۔
فوائد ومسائل:
مال و دولت کی کثرت اور اس کی رغبت و چاہت کے نتائج بالترتیب وہ نکلتے ہیں اور نکل رہے ہیں،
جن کی آپ نے نشان دہی فرمائی تھی،
اللہ محفوظ فرمائے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7427]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3996
مال دولت کا فتنہ۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم پر فارس اور روم کے خزانے کھول دئیے جائیں گے، تو اس وقت تم کون لوگ ہو گے“ (تم کیا کہو گے)؟ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ہم وہی کہیں گے (اور کریں گے) جو اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس کے علاوہ کچھ اور نہیں کہو گے؟ تم مال میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی خواہش کرو گے، اور ایک دوسرے سے حسد کرو گے، پھر ایک دوسرے سے منہ موڑو گے، اور ایک دوسرے سے بغض و نفرت رکھو گے“ یا ایسا ہی کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3996]
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم پر فارس اور روم کے خزانے کھول دئیے جائیں گے، تو اس وقت تم کون لوگ ہو گے“ (تم کیا کہو گے)؟ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ہم وہی کہیں گے (اور کریں گے) جو اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس کے علاوہ کچھ اور نہیں کہو گے؟ تم مال میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی خواہش کرو گے، اور ایک دوسرے سے حسد کرو گے، پھر ایک دوسرے سے منہ موڑو گے، اور ایک دوسرے سے بغض و نفرت رکھو گے“ یا ایسا ہی کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3996]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
رشک لینے سے یہاں دنیا مے مال کی طرف مسابقت مراد ہے۔
کسی نعمت کے بارے میں یہ خواہش ہے کہ وہ مجھے ملےدوسرے کو نہ ملے ناجائز رشک ہے۔
اس قسم کا رشک حسد تک لےجاتا ہے جو ناپسندیدہ ہے۔
جائز رشک کا مطلب یہ خواہش ہے کہ جیسی نعمت کسی کو ملی ہے ویسی مجھے بھی ملے۔
یہ رشک جائز ہے
(2)
حسد کے نتیجے میں تعلقات کشیدہ ہوتے ہیں اور دشمنی تک نوبت جا پہنچتی ہے۔
یہ سب عادتیں مذموم ہیں۔
(3)
آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ دولت مند افراد تنگ دست افراد پر سختی کرینگے اور رعب جمائیں گے۔
یہ صفات صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں نہیں تھیں۔
بعد والوں میں ایسے افراد ظاہر ہوئے جن میں ایسی خصلتیں موجود تھیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
رشک لینے سے یہاں دنیا مے مال کی طرف مسابقت مراد ہے۔
کسی نعمت کے بارے میں یہ خواہش ہے کہ وہ مجھے ملےدوسرے کو نہ ملے ناجائز رشک ہے۔
اس قسم کا رشک حسد تک لےجاتا ہے جو ناپسندیدہ ہے۔
جائز رشک کا مطلب یہ خواہش ہے کہ جیسی نعمت کسی کو ملی ہے ویسی مجھے بھی ملے۔
یہ رشک جائز ہے
(2)
حسد کے نتیجے میں تعلقات کشیدہ ہوتے ہیں اور دشمنی تک نوبت جا پہنچتی ہے۔
یہ سب عادتیں مذموم ہیں۔
(3)
آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ دولت مند افراد تنگ دست افراد پر سختی کرینگے اور رعب جمائیں گے۔
یہ صفات صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں نہیں تھیں۔
بعد والوں میں ایسے افراد ظاہر ہوئے جن میں ایسی خصلتیں موجود تھیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3996]
Sahih Muslim Hadith 7427 in Urdu
يزيد بن رباح القرشي ← عبد الله بن عمرو السهمي