سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب : قوله تعالى {يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسكم}
باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ”مومنوں اپنی جانیں بچاؤ“۔
حدیث نمبر: 4016
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ جُنْدُبٍ , عَنْ حُذَيْفَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَهُ" , قَالُوا: وَكَيْفَ يُذِلُّ نَفْسَهُ؟ قَالَ:" يَتَعَرَّضُ مِنَ الْبَلَاءِ لِمَا لَا يُطِيقُهُ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے آپ کو رسوا و ذلیل کرے“، لوگوں نے عرض کیا: اپنے آپ کو کیسے رسوا و ذلیل کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی مصیبت کا سامنا کرے گا، جس کی اس میں طاقت نہ ہو گی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4016]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الفتن 67 (2254)، (تحفة الأشراف: 3305)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/405) (حسن)» (سند میں علی بن زید جدعان ضعیف راوی ہیں، لیکن طبرانی میں ابن عمر رضی اللہ عنہا کے شاہد سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 613)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2254)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 519
إسناده ضعيف
ترمذي (2254)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 519
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥حذيفة بن اليمان العبسي، أبو عبد الله | صحابي | |
👤←👥جندب بن عبد الله البجلي، أبو عبد الله جندب بن عبد الله البجلي ← حذيفة بن اليمان العبسي | صحابي | |
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد الحسن البصري ← جندب بن عبد الله البجلي | ثقة يرسل كثيرا ويدلس | |
👤←👥علي بن زيد القرشي، أبو الحسن علي بن زيد القرشي ← الحسن البصري | ضعيف الحديث | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← علي بن زيد القرشي | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥عمرو بن عاصم القيسي، أبو عثمان عمرو بن عاصم القيسي ← حماد بن سلمة البصري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← عمرو بن عاصم القيسي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2254
| لا ينبغي للمؤمن أن يذل نفسه قالوا وكيف يذل نفسه قال يتعرض من البلاء لما لا يطيق |
سنن ابن ماجه |
4016
| لا ينبغي للمؤمن أن يذل نفسه قالوا وكيف يذل نفسه قال يتعرض من البلاء لما لا يطيقه |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4016 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4016
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہےجبکہ دیگر محققین سے اسے شواہد کی بنا پر حسن قراردیا ہے۔
شیخ البانی نے مذکورہ حدیث پر تفصیلاً بحث کرتے ہوئے اسے حسن قراردیا ہے اور انھی کی رائےاقرب الی الصلوب معلوم ہوتی ہے۔
والله اعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الصحيحة للألباني، رقم: 613)
بنا بریں ایسی ذمہ داری اٹھانے والے کو قصور وار سمجھتے ہیں اس طرح اس کی عزت خوامخواہ کم ہوجاتی ہے۔
(2)
بعض علماء مسجد ومدرسہ یا انجمن کے انتظامی معاملات اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں حالانکہ ان میں علمی صلاحیت تو ہوتی ہے، انتظامی صلاحیت نہیں ہوتی۔
بعض اوقات خود مسجد یا مدرسہ کے متعلقین یہ تصور کرلیتے ہیں کہ فلاں صاحب بڑے عالم ہیں۔
لہٰذا انتظام اچھے طریقے سے چلائیں گے۔
اس صورت میں ایسی ذمہ داری نہیں اٹھانی چاہیے جس کے بارے میں یقین ہوکہ اسے نبھانا مشکل ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہےجبکہ دیگر محققین سے اسے شواہد کی بنا پر حسن قراردیا ہے۔
شیخ البانی نے مذکورہ حدیث پر تفصیلاً بحث کرتے ہوئے اسے حسن قراردیا ہے اور انھی کی رائےاقرب الی الصلوب معلوم ہوتی ہے۔
والله اعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الصحيحة للألباني، رقم: 613)
بنا بریں ایسی ذمہ داری اٹھانے والے کو قصور وار سمجھتے ہیں اس طرح اس کی عزت خوامخواہ کم ہوجاتی ہے۔
(2)
بعض علماء مسجد ومدرسہ یا انجمن کے انتظامی معاملات اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں حالانکہ ان میں علمی صلاحیت تو ہوتی ہے، انتظامی صلاحیت نہیں ہوتی۔
بعض اوقات خود مسجد یا مدرسہ کے متعلقین یہ تصور کرلیتے ہیں کہ فلاں صاحب بڑے عالم ہیں۔
لہٰذا انتظام اچھے طریقے سے چلائیں گے۔
اس صورت میں ایسی ذمہ داری نہیں اٹھانی چاہیے جس کے بارے میں یقین ہوکہ اسے نبھانا مشکل ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4016]
جندب بن عبد الله البجلي ← حذيفة بن اليمان العبسي