🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب : الصبر على البلاء
باب: آفات و مصائب پر صبر کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4032
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ صَالِحٍ a> , حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُؤْمِنُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ , أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يُخَالِطُ النَّاسَ وَلَا يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مومن جو لوگوں سے مل جل کر رہتا ہے، اور ان کی ایذاء پر صبر کرتا ہے، تو اس کا ثواب اس مومن سے زیادہ ہے جو لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہے، اور ان کی ایذاء رسانی پر صبر نہیں کرتا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4032]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مومن لوگوں سے ملتا جلتا ہے اور ان سے ملنے والی تکلیف پر صبر کرتا ہے، وہ اس مومن سے زیادہ ثواب حاصل کرلیتا ہے جو لوگوں سے ملتا جلتا نہیں اور ان کی طرف سے آنے والی تکلیف پر صبر نہیں کرتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4032]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/صفة القیامة 55 (2507)، (تحفة الأشراف: 8565)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/43) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بلکہ عزلت اور تنہائی میں بسر کرتا ہے، یہ حدیث دلیل ہے ان لوگوں کی جو میل جول کو تنہائی اور گوشہ نشینی سے بہتر جانتے ہیں، بشرطیکہ میل جول کے آداب اور تقاضے کے مطابق زندگی گزارتا ہو، یعنی جمعہ، جماعت، عیدین اور جنازے میں حاضر ہو اور بیمار کی عیادت کرے اور لوگوں کو ایذا نہ دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥يحيى بن وثاب الأسدي
Newيحيى بن وثاب الأسدي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← يحيى بن وثاب الأسدي
ثقة حافظ
👤←👥إسحاق بن يوسف الأزرق، أبو محمد
Newإسحاق بن يوسف الأزرق ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة مأمون
👤←👥عبد الواحد بن صفوان الأموي
Newعبد الواحد بن صفوان الأموي ← إسحاق بن يوسف الأزرق
مقبول
👤←👥علي بن ميمون العطار، أبو الحسن
Newعلي بن ميمون العطار ← عبد الواحد بن صفوان الأموي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
4032
المؤمن الذي يخالط الناس ويصبر على أذاهم أعظم أجرا من المؤمن الذي لا يخالط الناس ولا يصبر على أذاهم
بلوغ المرام
1330
المؤمن الذي يخالط الناس ويصبر على أذاهم خير من المؤمن الذي لا يخالط الناس ولا يصبر على أذاهم
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4032 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4032
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
لوگوں سے میل جول میں اچھے برے ہر قسم کے آدمی سے واسطہ پڑتا ہے۔
برے آدمی کے برائی سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے لیکن خود نیکی پر قائم رہنا چاہیے۔

(2)
معاشرے میں برائی زیادہ ہو جائے تب بھی سب سے الگ تھلگ ہوکر راہبوں کی طرح جنگلوں یا غاروں میں چلے جانا جائز نہیں بلکہ معاشرے میں رہ کر اصلاح کی کوشش کرنا ضروری ہے۔

(3)
جب ایمان کو خطرہ ہو تب خلوت نشینی جائز ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4032]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1330
مکارم اخلاق (اچھے عمدہ اخلاق) کی ترغیب کا بیان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مومن لوگوں سے میل جول رکھتا ہے اور ان کی جانب سے اذیت رسانی پر صبر کرتا ہے وہ اس مومن سے بہتر اور اچھا ہے جو لوگوں سے ملتا جلتا نہیں اور ان کی جانب سے اذیت رسانی پر صبر بھی نہیں کرتا۔ اس حدیث کو ابن ماجہ نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ نیز یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے مگر اس نے صحابی رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیا۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1330»
تخریج:
«أخرجه ابن ماجه، الفتن، باب الصبر علي البلاء، حديث:4032، والترمذي، صفة القيامة، حديث:2507 بألفاظ مختلفة.»
تشریح:
اس حدیث میں اس آدمی کو بہتر قرار دیا گیا ہے جو لوگوں میں مل جل کر رہتا ہے‘ ان سے میل جول اور ملاقات رکھتا ہے‘ دین کی تبلیغ کرتا ہے‘ ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوتا ہے اور تبلیغ دین کے سلسلے میں ان کی جانب سے جو تکلیف اور اذیت پہنچتی ہے اسے صبر و تحمل سے برداشت کرتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ تکلیف اسے دین کی وجہ سے دی گئی ہے‘ لہٰذا وہ اس شخص سے بدرجہا بہتر ہے جو لوگوں میں آتا جاتا نہیں‘ ان سے میل ملاقات نہیں رکھتا‘ نہ وہ دین کی تبلیغ کرتا ہے اور نہ ہی ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوتا ہے‘ نہ کسی سے تعاون لیتا ہے اور نہ دیتا ہے‘ البتہ جو آدمی ایذا رسانی کو برداشت نہیں کر سکتا بلکہ اس سے اس کی اپنی دینداری کے خراب ہونے کا اندیشہ ہے تو ایسی صورت میں اس شخص کے لیے عزلت اور کنارہ کشی کی گنجائش ہے۔
امام غزالی رحمہ اللہ نے احیاء العلوم میں اس پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1330]

Sunan Ibn Majah Hadith 4032 in Urdu