🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب : طلوع الشمس من مغربها
باب: پچھم سے سورج نکلنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4070
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى , عَنْ إِسْرَائِيلَ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ زِرٍّ , عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ قِبَلِ مَغْرِبِ الشَّمْسِ بَابًا مَفْتُوحًا , عَرْضُهُ سَبْعُونَ سَنَةً , فَلَا يَزَالُ ذَلِكَ الْبَابُ مَفْتُوحًا لِلتَّوْبَةِ , حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ نَحْوِهِ , فَإِذَا طَلَعَتْ مِنْ نَحْوِهِ لَمْ يَنْفَعْ نَفْسًا إِيمَانُهَا , لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا".
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مغرب (یعنی سورج کے ڈوبنے کی سمت) میں ایک کھلا دروازہ ہے، اس کی چوڑائی ستر سال کی مسافت ہے، یہ دروازہ توبہ کے لیے ہمیشہ کھلا رہے گا، جب تک سورج ادھر سے نہ نکلے، اور جب سورج ادھر سے نکلے گا تو اس وقت کسی شخص کا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا ایمان لا کر کوئی نیکی نہ کما لی ہو، اس کا ایمان لانا کسی کام نہ آئے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4070]
حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج غروب ہونے کی سمت میں ایک کھلا ہوا دروازہ ہے جس کی چوڑائی ستر سال (میں طے ہونے والا فاصلہ) ہے۔ وہ دروازہ توبہ کے لیے کھلا رہے گا حتی کہ سورج اس کی طرف سے طلوع ہو۔ جب وہ ادھر سے طلوع ہو گیا تو ﴿کسی ایسے شخص کو ایمان سے فائدہ نہیں ہو گا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لا چکا ہو گا یا جس نے ایمان لا کر نیکی نہیں کی ہو گی﴾ [سورة الأنعام: 158] ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4070]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 99 (3535، 3536)، (تحفة الأشراف: 4952)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/239، 240، 241) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥صفوان بن عسال المراديصحابي
👤←👥زر بن حبيش الأسدي، أبو مطرف، أبو مريم
Newزر بن حبيش الأسدي ← صفوان بن عسال المرادي
ثقة
👤←👥عاصم بن أبي النجود الأسدي، أبو بكر
Newعاصم بن أبي النجود الأسدي ← زر بن حبيش الأسدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف
Newإسرائيل بن يونس السبيعي ← عاصم بن أبي النجود الأسدي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن موسى العبسي، أبو محمد
Newعبيد الله بن موسى العبسي ← إسرائيل بن يونس السبيعي
ثقة يتشيع
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عبيد الله بن موسى العبسي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3536
بالمغرب بابا عرضه مسيرة سبعين عاما للتوبة لا يغلق حتى تطلع الشمس من قبله وذلك قول الله يوم يأتي بعض آيات ربك لا ينفع نفسا إيمانها الآية
سنن ابن ماجه
4070
من قبل مغرب الشمس بابا مفتوحا عرضه سبعون سنة فلا يزال ذلك الباب مفتوحا للتوبة حتى تطلع الشمس من نحوه فإذا طلعت من نحوه لم ينفع نفسا إيمانها لم تكن آمنت من قبل أو كسبت في إيمانها خيرا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4070 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4070
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
توبہ قبول کرنا اللہ کی صفت ہے۔
دروازے کا کھلا ہونا اس کا ظاہری مظہر ہے۔

(2)
توبہ کا دروازہ ان غیبی اشیاء میں سے ہے جنھیں دیکھے بغیر ان پر ایمان لانا ضروری ہے، جیسے ہم جنت، جہنم پر دیکھے بغیر ایمان رکھتے ہیں۔

(3)
زمین و آسمان کا نظام اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جب چاہے ان قوانین فطرت کو ختم یا تبدیل کرسکتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4070]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3536
توبہ و استغفار کی فضیلت اور بندوں پر اللہ کی رحمتوں کا بیان۔
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ میں صفوان بن عسال مرادی رضی الله عنہ کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا: تمہیں کیا چیز یہاں لے کر آئی ہے؟ میں نے کہا: علم حاصل کرنے آیا ہوں، انہوں نے کہا: مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ فرشتے طالب علم کے کام (و مقصد) سے خوش ہو کر طالب علم کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: میرے جی میں یہ خیال گزرا یا میرے دل میں موزوں پر مسح کے بارے میں کچھ بات کھٹکی، تو کیا اس بارے میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات یاد ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، ہم جب سفر میں ہوں (یا سفر کرنے و۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3536]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
(الأنعام:158)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3536]

Sunan Ibn Majah Hadith 4070 in Urdu