سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب : طلوع الشمس من مغربها
باب: پچھم سے سورج نکلنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4070
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى , عَنْ إِسْرَائِيلَ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ زِرٍّ , عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ قِبَلِ مَغْرِبِ الشَّمْسِ بَابًا مَفْتُوحًا , عَرْضُهُ سَبْعُونَ سَنَةً , فَلَا يَزَالُ ذَلِكَ الْبَابُ مَفْتُوحًا لِلتَّوْبَةِ , حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ نَحْوِهِ , فَإِذَا طَلَعَتْ مِنْ نَحْوِهِ لَمْ يَنْفَعْ نَفْسًا إِيمَانُهَا , لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا".
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مغرب (یعنی سورج کے ڈوبنے کی سمت) میں ایک کھلا دروازہ ہے، اس کی چوڑائی ستر سال کی مسافت ہے، یہ دروازہ توبہ کے لیے ہمیشہ کھلا رہے گا، جب تک سورج ادھر سے نہ نکلے، اور جب سورج ادھر سے نکلے گا تو اس وقت کسی شخص کا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا ایمان لا کر کوئی نیکی نہ کما لی ہو، اس کا ایمان لانا کسی کام نہ آئے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4070]
حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج غروب ہونے کی سمت میں ایک کھلا ہوا دروازہ ہے جس کی چوڑائی ستر سال (میں طے ہونے والا فاصلہ) ہے۔ وہ دروازہ توبہ کے لیے کھلا رہے گا حتی کہ سورج اس کی طرف سے طلوع ہو۔ جب وہ ادھر سے طلوع ہو گیا تو ﴿کسی ایسے شخص کو ایمان سے فائدہ نہیں ہو گا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لا چکا ہو گا یا جس نے ایمان لا کر نیکی نہیں کی ہو گی﴾ [سورة الأنعام: 158] ۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4070]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 99 (3535، 3536)، (تحفة الأشراف: 4952)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/239، 240، 241) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3536
| بالمغرب بابا عرضه مسيرة سبعين عاما للتوبة لا يغلق حتى تطلع الشمس من قبله وذلك قول الله يوم يأتي بعض آيات ربك لا ينفع نفسا إيمانها الآية |
سنن ابن ماجه |
4070
| من قبل مغرب الشمس بابا مفتوحا عرضه سبعون سنة فلا يزال ذلك الباب مفتوحا للتوبة حتى تطلع الشمس من نحوه فإذا طلعت من نحوه لم ينفع نفسا إيمانها لم تكن آمنت من قبل أو كسبت في إيمانها خيرا |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4070 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4070
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
توبہ قبول کرنا اللہ کی صفت ہے۔
دروازے کا کھلا ہونا اس کا ظاہری مظہر ہے۔
(2)
توبہ کا دروازہ ان غیبی اشیاء میں سے ہے جنھیں دیکھے بغیر ان پر ایمان لانا ضروری ہے، جیسے ہم جنت، جہنم پر دیکھے بغیر ایمان رکھتے ہیں۔
(3)
زمین و آسمان کا نظام اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جب چاہے ان قوانین فطرت کو ختم یا تبدیل کرسکتا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
توبہ قبول کرنا اللہ کی صفت ہے۔
دروازے کا کھلا ہونا اس کا ظاہری مظہر ہے۔
(2)
توبہ کا دروازہ ان غیبی اشیاء میں سے ہے جنھیں دیکھے بغیر ان پر ایمان لانا ضروری ہے، جیسے ہم جنت، جہنم پر دیکھے بغیر ایمان رکھتے ہیں۔
(3)
زمین و آسمان کا نظام اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جب چاہے ان قوانین فطرت کو ختم یا تبدیل کرسکتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4070]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3536
توبہ و استغفار کی فضیلت اور بندوں پر اللہ کی رحمتوں کا بیان۔
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ میں صفوان بن عسال مرادی رضی الله عنہ کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا: تمہیں کیا چیز یہاں لے کر آئی ہے؟ میں نے کہا: علم حاصل کرنے آیا ہوں، انہوں نے کہا: مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ ”فرشتے طالب علم کے کام (و مقصد) سے خوش ہو کر طالب علم کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں“، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: میرے جی میں یہ خیال گزرا یا میرے دل میں موزوں پر مسح کے بارے میں کچھ بات کھٹکی، تو کیا اس بارے میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات یاد ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، ہم جب سفر میں ہوں (یا سفر کرنے و۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3536]
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ میں صفوان بن عسال مرادی رضی الله عنہ کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا: تمہیں کیا چیز یہاں لے کر آئی ہے؟ میں نے کہا: علم حاصل کرنے آیا ہوں، انہوں نے کہا: مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ ”فرشتے طالب علم کے کام (و مقصد) سے خوش ہو کر طالب علم کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں“، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: میرے جی میں یہ خیال گزرا یا میرے دل میں موزوں پر مسح کے بارے میں کچھ بات کھٹکی، تو کیا اس بارے میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات یاد ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، ہم جب سفر میں ہوں (یا سفر کرنے و۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3536]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
(الأنعام:158)
وضاحت:
1؎:
(الأنعام:158)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3536]
Sunan Ibn Majah Hadith 4070 in Urdu
زر بن حبيش الأسدي ← صفوان بن عسال المرادي