سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب : من حدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثا وهو يرى أنه كذب
باب: جان بوجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹی حدیث روایت کرنے والے کی مذمت۔
حدیث نمبر: 41
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَدَّثَ عَنِّي بِحَدِيثٍ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبَيْنِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کرے کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 41]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المقدمة 1 (1)، سنن الترمذی/العلم 9 (2662)، (تحفة الأشراف: 11531)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/ 250، 252، 255) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥المغيرة بن شعبة الثقفي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عيسى | صحابي | |
👤←👥ميمون بن أبي شبيب الربعي، أبو نصر ميمون بن أبي شبيب الربعي ← المغيرة بن شعبة الثقفي | صدوق كثير الإرسال | |
👤←👥حبيب بن أبي ثابت الأسدي، أبو يحيى حبيب بن أبي ثابت الأسدي ← ميمون بن أبي شبيب الربعي | ثقة فقيه جليل | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← حبيب بن أبي ثابت الأسدي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
1291
| كذبا علي ليس ككذب على أحد من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار |
صحيح مسلم |
5
| من كذب على متعمدا فليتبوأ مقعده من النار |
سنن ابن ماجه |
41
| من حدث عني بحديث وهو يرى أنه كذب فهو أحد الكاذبين |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 41 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث41
اردو حاشہ:
ان روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کا عذاب مذکور ہے اور حقیقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولنا تمام جہان کے جھوٹ سے بدتر ہے۔
ان روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کا عذاب مذکور ہے اور حقیقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولنا تمام جہان کے جھوٹ سے بدتر ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 41]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5
علی ابنِ ابی ربیعہ والبیؒ بیان کرتے ہیں، میں مسجد میں پہنچا، جس وقت کوفہ کے گورنر حضرت مغیرہؓ تھے توحضرت مغیرہؓ نے بیان کیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”میری طرف بات منسوب کرنا کسی اور کی طرف بات منسوب کرنے کی طرح نہیں ہے، جو مجھ پر عمداً جھوٹ باندھے گا، وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنا لے۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جو بات منسوب ہوگی،
وہ دین وشریعت بن جائے گی،
لیکن کسی اور کی بات دین وشریعت نہیں بنتی،
اس لیے آپ کی طرف منسوب کرنا،
اتنا ہلکا اور آسان نہیں ہے،
جتنا کسی اور کی طرف بات منسوب کرنا آسان ہے،
کسی اور کی طرف بات منسوب کرنے میں اتنا خطرہ اور خوف لاحق نہیں ہوسکتا،
جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی بات کے منسوب کرنے کی صورت میں لاحق ہوسکتا ہے اور لاحق ہوناچاہیے۔
فوائد ومسائل:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جو بات منسوب ہوگی،
وہ دین وشریعت بن جائے گی،
لیکن کسی اور کی بات دین وشریعت نہیں بنتی،
اس لیے آپ کی طرف منسوب کرنا،
اتنا ہلکا اور آسان نہیں ہے،
جتنا کسی اور کی طرف بات منسوب کرنا آسان ہے،
کسی اور کی طرف بات منسوب کرنے میں اتنا خطرہ اور خوف لاحق نہیں ہوسکتا،
جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی بات کے منسوب کرنے کی صورت میں لاحق ہوسکتا ہے اور لاحق ہوناچاہیے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5]
ميمون بن أبي شبيب الربعي ← المغيرة بن شعبة الثقفي