سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب : مثل الدنيا
باب: دنیا کی مثال۔
حدیث نمبر: 4109
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ , أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَلْقَمَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: اضْطَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَصِيرٍ فَأَثَّرَ فِي جِلْدِهِ , فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَوْ كُنْتَ آذَنْتَنَا فَفَرَشْنَا لَكَ عَلَيْهِ شَيْئًا يَقِيكَ مِنْهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَنَا وَالدُّنْيَا , إِنَّمَا أَنَا وَالدُّنْيَا كَرَاكِبٍ اسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ , ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی پر لیٹے تو آپ کے بدن مبارک پر اس کا نشان پڑ گیا، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، اللہ کے رسول! اگر آپ ہمیں حکم دیتے تو ہم آپ کے لیے اس پر کچھ بچھا دیتے، آپ اس تکلیف سے بچ جاتے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو دنیا میں ایسے ہی ہوں جیسے کوئی مسافر درخت کے سائے میں آرام کرے، پھر اس کو چھوڑ کر وہاں سے چل دے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4109]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الزہد 44 (2377)، (تحفة الأشراف: 9443)، وقد أخرجہ: (حم 1/391، 441) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥علقمة بن قيس النخعي، أبو شبل علقمة بن قيس النخعي ← عبد الله بن مسعود | ثقة ثبت | |
👤←👥إبراهيم النخعي، أبو عمران إبراهيم النخعي ← علقمة بن قيس النخعي | ثقة | |
👤←👥عمرو بن مرة المرادي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن عمرو بن مرة المرادي ← إبراهيم النخعي | ثقة | |
👤←👥عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي ← عمرو بن مرة المرادي | صدوق اختلط قبل موته وضابطه أن من سمع منه ببغداد فبعد الاختلاط | |
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود أبو داود الطيالسي ← عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي | ثقة حافظ غلط في أحاديث | |
👤←👥يحيى بن حكيم المقوم، أبو سعيد يحيى بن حكيم المقوم ← أبو داود الطيالسي | ثقة حافظ مصنف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2377
| ما لي وما للدنيا ما أنا في الدنيا إلا كراكب استظل تحت شجرة ثم راح وتركها |
سنن ابن ماجه |
4109
| ما أنا والدنيا إنما أنا والدنيا كراكب استظل تحت شجرة ثم راح وتركها |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4109 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4109
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بودباش میں سادگی مستحسن ہے۔
(2)
عمدہ چیز سے اجتناب اگر اس لحاظ سے ہو کہ جو رقم اپنی ذات پر خرچ ہونے والی ہے وہ اللہ کی راہ میں خرچ ہوتو بہتر ہےاگر بخل کی وجہ سے ہوتو بری عادت ہے۔
اگر حلال چیز کو اپنے آپ پر حرام کرلیا جائے تو شرعاً ممنوع ہے۔
(3)
زہد کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی نعمت کے لیے حرص نہ کی جائے اگر بغیر حرص کے جائز طریقے سے مل جائے تو شرعاً ممنوع ہے۔
(3)
زہد کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی نعمت کے لیے حرص نہ کی جائےاگر بغیر حرص کےجائز طریقے سے مل جائے تو استعمال کر لی جائے۔
اہتمام اور تکلف زہد کے منافی ہے۔
(4)
جس چیز کی دعوت دی جائے اس کا عملی نمونہ پیش کرنے سے تبلیغ کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔
(5)
حکومت کے عہدے داروں کو پر تکلف زندگی سے خاص طور پر بچنا چاہیے تاکہ عوام کی ضروریات اور فلاح و بہبود کے لیے زیادہ رقم خرچ ہو سکے۔
فوائد و مسائل:
(1)
بودباش میں سادگی مستحسن ہے۔
(2)
عمدہ چیز سے اجتناب اگر اس لحاظ سے ہو کہ جو رقم اپنی ذات پر خرچ ہونے والی ہے وہ اللہ کی راہ میں خرچ ہوتو بہتر ہےاگر بخل کی وجہ سے ہوتو بری عادت ہے۔
اگر حلال چیز کو اپنے آپ پر حرام کرلیا جائے تو شرعاً ممنوع ہے۔
(3)
زہد کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی نعمت کے لیے حرص نہ کی جائے اگر بغیر حرص کے جائز طریقے سے مل جائے تو شرعاً ممنوع ہے۔
(3)
زہد کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی نعمت کے لیے حرص نہ کی جائےاگر بغیر حرص کےجائز طریقے سے مل جائے تو استعمال کر لی جائے۔
اہتمام اور تکلف زہد کے منافی ہے۔
(4)
جس چیز کی دعوت دی جائے اس کا عملی نمونہ پیش کرنے سے تبلیغ کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔
(5)
حکومت کے عہدے داروں کو پر تکلف زندگی سے خاص طور پر بچنا چاہیے تاکہ عوام کی ضروریات اور فلاح و بہبود کے لیے زیادہ رقم خرچ ہو سکے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4109]
علقمة بن قيس النخعي ← عبد الله بن مسعود