🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب : القناعة
باب: قناعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4138
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ , وَحُمَيْدِ بْنِ هَانِئٍ الْخَوْلَانِيِّ , أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ , يُخْبِرُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" قَدْ أَفْلَحَ مَنْ هُدِيَ إِلَى الْإِسْلَامِ , وَرُزِقَ الْكَفَافَ وَقَنَعَ بِهِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کامیاب ہو گیا وہ شخص جس کو اسلام کی ہدایت نصیب ہوئی، اور ضرورت کے مطابق روزی ملی، اور اس نے اس پر قناعت کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4138]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کامیاب وہ ہے جسے اسلام کی ہدایت مل گئی، ضرورت کے مطابق رزق مل گیا اور وہ اس پر قانع ہو گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4138]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الزکاة 43 (1054)، سنن الترمذی/الزھد 35 (2348)، (تحفة الأشراف: 8848)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/168، 172) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن يزيد المعافري، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن يزيد المعافري ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة
👤←👥حميد بن هانئ الخولاني، أبو هانئ
Newحميد بن هانئ الخولاني ← عبد الله بن يزيد المعافري
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبيد الله بن أبي جعفر المصري
Newعبيد الله بن أبي جعفر المصري ← حميد بن هانئ الخولاني
ثقة
👤←👥عبد الله بن لهيعة الحضرمي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن لهيعة الحضرمي ← عبيد الله بن أبي جعفر المصري
ضعيف الحديث
👤←👥محمد بن رمح التجيبي، أبو عبد الله
Newمحمد بن رمح التجيبي ← عبد الله بن لهيعة الحضرمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
2426
أفلح من أسلم ورزق كفافا وقنعه الله بما آتاه
جامع الترمذي
2348
أفلح من أسلم وكان رزقه كفافا وقنعه الله
سنن ابن ماجه
4138
أفلح من هدي إلى الإسلام ورزق الكفاف وقنع به
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4138 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4138
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اسلام سب سے بڑی دولت ہے کیونکہ اس میں آخرت میں جنت ملتی ہے جس سے بڑی کوئی نعمت نہیں۔

(2)
رزق كفاف کا مطلب اتنی روزی ہے جس سے بنیادی ضروریات بغیر فضول خرچی کے پوری ہوتی رہیں اور قرض اٹھانے کی ضرورت نہ پڑے۔

(3)
کامیابی دولت کے ڈھیر جمع کرنے کا نام نہیں بلکہ موجود رزق پر قناعت اور شکر اصل اور بڑی دولت اور بڑی کامیابی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4138]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2348
بقدر کفاف (روزمرہ کے خرچ) پر صبر کی ترغیب۔
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کامیاب ہوا وہ شخص جس نے اسلام قبول کیا اور بقدر «كفاف» اسے روزی حاصل ہوئی اور اللہ نے اسے (اپنے دئیے ہوئے پر) «قانع» بنا دیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2348]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
آخرت کی کامیابی کا دارومدارصرف اورصرف اسلام ہے،
اگر بدقسمتی سے کسی کا دامن دولت اسلام سے خالی رہا تو دنیا بھر کے خزانے اسے اخروی کامیابی سے ہمکنارنہیں کرسکتے،
اسی طرح بقدرضرورت اوربرابرسرابر والی زندگی میں جو امن وسکون میسر ہے وہ زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کی خواہش رکھنے والے انسان کو کبھی حاصل نہیں ہوسکتی،
گویا بقدرکفاف روزی کے ساتھ قناعت واستغنا کا مل جانا امن وسکون کی ضمانت ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2348]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2426
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کامیاب و با مراد وہ انسان جو مسلمان ہو گیا اور اسے بقدر کفاف روزی ملی اور اللہ تعالیٰ نے اسے جو کچھ دیا اس پر قناعت کی تو فیق بخشی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2426]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اللہ تعالیٰ جس بندہ کو ایمان و اسلام کی دولت نصیب فرمائے اور ساتھ ہی اس دنیا میں رہنے سہنے کے لیے بقدر ضرورت سامان فراہم فرمائے تاکہ کسی کے سامنے دست سوال دراز کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے اور پھر اللہ تعالیٰ اس کے دل کو قناعت اور طمانیت کی دولت بھی نصیب فرما دے۔
تو یہ اس پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے اور اس کےلئے کا میابی و کامرانی کی دلیل ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2426]

Sunan Ibn Majah Hadith 4138 in Urdu