یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب : الوضوء ثلاثا ثلاثا
باب: تین تین بار اعضاء وضو دھونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 416
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ فَائِدِ أَبِى الْوَرْقَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَمَسَحَ رَأْسَهُ مَرَّةً".
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا، اور سر کا مسح ایک بار کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 416]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے تین تین بار (اعضاء دھوکر) وضو کیا اور سر کا مسح ایک بار کیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 416]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف: 5179، ومصباح الزجاجة: 171) (صحیح)» (اس حدیث میں ''فائد بن عبد الرحمن '' متروک و منکر الحدیث راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 100)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
416
| توضأ ثلاثا ثلاثا ومسح رأسه مرة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 416 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث416
اردو حاشہ:
اس حدیث سے واضح ہوگیا کہ تین تین بار اعضاء دھونے میں سر کا مسح شامل نہیں وہ ایک ہی بارہوگا۔
اس حدیث سے واضح ہوگیا کہ تین تین بار اعضاء دھونے میں سر کا مسح شامل نہیں وہ ایک ہی بارہوگا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 416]
Sunan Ibn Majah Hadith 416 in Urdu
فايد بن عبد الرحمن المدني ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي