🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب : الحياء
باب: شرم و حیاء کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4181
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِكُلِّ دِينٍ خُلُقًا , وَخُلُقُ الْإِسْلَامِ الْحَيَاءُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دین کا ایک اخلاق ہوتا ہے اور اسلام کا اخلاق حیاء ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4181]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1537، ومصباح الزجاجة: 1484) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں معاویہ بن یحییٰ صدفی ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 940)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
معاوية بن يحيى الصدفي : ضعيف (تقدم:842) وللحديث شواهد ضعيفة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← أنس بن مالك الأنصاري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥معاوية بن يحيى الصدفي، أبو روح
Newمعاوية بن يحيى الصدفي ← محمد بن شهاب الزهري
ضعيف الحديث
👤←👥عيسى بن يونس السبيعي، أبو محمد، أبو عمرو
Newعيسى بن يونس السبيعي ← معاوية بن يحيى الصدفي
ثقة مأمون
👤←👥إسماعيل بن عبد الله السكري، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن عبد الله السكري ← عيسى بن يونس السبيعي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
4181
لكل دين خلقا وخلق الإسلام الحياء
المعجم الصغير للطبراني
2
لكل دين خلقا وخلق الإسلام الحياء
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4181 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4181
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے۔
شیخ البانی رحمة الله علیہ نے اس پر تفصیلاً بحث کی ہےجس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت اور آئندہ آنے والی روایت دیگر شواہد کی بنا پر حسن درجے تک پہنچ جاتی ہیں نیز امام ابن عبد البر رحمۃ اللہ علیہ نے بھی انھیں حسن قرار دیا ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الصحيحة للالباني رقم: 409)

(2)
حیا بہت سی اخلاقی خرابیوں سے محفوظ رکھتی ہے اس لیے اسلام میں اس کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

(3)
حیا کو قائم رکھنے کے لیے پردہ کرنے اور کسی کے گھر جاتے وقت اجازت لینے کے احکام دیے گئے ہیں۔

(4)
شریعت اسلامی میں ایسے احکامات دیے گئے ہیں جن سے شادی کرنا اور شادی شدہ زندگی گزارنا آسان ہوجائے اور طلاق کے راستے میں رکاوٹیں قائم کی گئی ہیں۔
اس کا مقصد بھی عٖت وعصمت کو قائم رکھنا ہے۔

(5)
اس مقصد کے لیے بدکاری پر سخت سزا مقرر کی گئی ہے اسی طرح کسی پر بد کاری کا جھوٹا الزام لگانے کی بھی عبرت ناک سزا مقرر کی گئی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4181]