سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب : الحلم
باب: حلم اور بردباری کا بیان۔
حدیث نمبر: 4187
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ الشَّيْبَانِيُّ , عَنْ عُمَارَةَ الْعَبْدِيِّ , حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ , قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" أَتَتْكُمْ وُفُودُ عَبْدِ الْقَيْسِ" , وَمَا يَرَى أَحَدٌ فِينَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ جَاءُوا فَنَزَلُوا , فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَقِيَ الْأَشَجُّ الْعَصَرِيُّ , فَجَاءَ بَعْدُ فَنَزَلَ مَنْزِلًا , فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ وَوَضَعَ ثِيَابَهُ جَانِبًا , ثُمَّ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ, فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَشَجُّ , إِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ: الْحِلْمَ وَالتُّؤَدَةَ" , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَشَيْءٌ جُبِلْتُ عَلَيْهِ أَمْ شَيْءٌ حَدَثَ لِي , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ شَيْءٌ جُبِلْتَ عَلَيْهِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس قبیلہ عبدالقیس کے وفود آئے ہیں، اور کوئی اس وقت نظر نہیں آ رہا تھا، ہم اسی حال میں تھے کہ وہ آ پہنچے، اترے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے، اشج عصری رضی اللہ عنہ باقی رہ گئے، وہ بعد میں آئے، ایک مقام پر اترے، اپنی اونٹنی کو بٹھایا، اپنے کپڑے ایک طرف رکھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اشج! تم میں دو خصلتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے: ایک تو حلم و بردباری، دوسری طمانینت و سہولت، اشج رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ صفات میری خلقت میں ہے یا نئی پیدا ہوئی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہ پیدائشی ہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4187]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس قبیلہ عبد القیس کا وفد آگیا ہے۔“ اس وقت ہم میں سے کسی کا یہ خیال نہیں تھا (کہ وہ پہنچ گئے ہیں)۔ اچانک وہ لوگ آئے اور سواریوں سے اتر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ (ان کے سردار) حضرت اشجع (مالک بن منذر) عصری رضی اللہ عنہ باقی رہ گئے۔ وہ بعد میں حاضر ہوئے۔ وہ قیام گاہ پر آئے، سواری کو بٹھایا، اپنے (سفر کے) کپڑے ایک طرف رکھے (سفر کے کپڑے اتار کر دوسرے پہنے)، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”اشجع! تمہارے اندر دو ایسی عادتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں: بردباری اور سہج سے کام کرنا۔“ انہوں نے کہا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ چیز میرے اندر فطری طور پر موجود ہے یا بعد میں پیدا ہوئی؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ یہ چیز تمہارے اندر فطری طور پر موجود ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4187]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4265، ومصباح الزجاجة: 1487) (ضعیف جدا)» (سند میں عمارہ بن جوین متروک ہے)
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ حلم اور وقار انسان میں فطری ہوتا ہے، اسی طرح غصہ اور جلد بازی بھی پیدائشی فطری ہوتے ہیں، لیکن اگر آدمی محنت کرے اور نفس پر بار ڈالے تو بری صفات اور برے اخلاق دور ہو سکتے ہیں، یا کم ہو سکتے ہیں،محققین علماء کا یہی قول ہے، اور اگر برے اخلاق کا علاج ممکن نہ ہوتا تو تعلیم اخلاق،محنت و ریاضت اور مجاہدہ کا کچھ فائدہ ہی نہ ہوتا، لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ فطری عیوب بہت مشکل سے جاتے ہیں، یا کم ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا
أبو هارون عمارة بن جوين العبدي : متروك (تقدم:249)
أبو هارون عمارة بن جوين العبدي : متروك (تقدم:249)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
4187
| فيك لخصلتين يحبهما الله الحلم والتؤدة |
Sunan Ibn Majah Hadith 4187 in Urdu
أبو هارون العبدي ← أبو سعيد الخدري